Book Name:Parda Poshi
* اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم نے ارشاد فرمایا مَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللَّہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ یعنی جوبندہ دنیا میں کسی بندے کی پردہ پوشی کرے گا اللہ پاک قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔([1])
سُبْحانَ اللہ ! کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرنا کتنا فضیلت والا عمل ہے ، لیکن یہ یاد رہے کہ ہر جگہ پردہ پوشی نہیں کی جائے گی ۔ چنانچہ اس حدیث کے تحت نزہۃ ُالقاری میں ہے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ کبھی اتفاقیہ کسی ایسے شخص کو جو گناہ کا عادی نہیں ،چھپ چھپا کر گناہ کرتے دیکھا تو اِس خاص صورت میں بہتر یہی ہے کہ اس کوچھپایا جائے،لیکن جو بے باک علانیہ فسق وفجور کا ارتکاب کرتے ہیں اس کے فسق وفجور کو بیان کرنا واجب ہے ،جیسا کہ حدیثِ مبارکہ میں فرمایا گیاکہ کیا بدکار کے تذکرے سے بچتے ہو؟ (ایسا کرو گے تو ) لوگ اسے کب پہچانیں گے، اس میں جو برائی ہے بیان کرو تاکہ لوگ اس سے بچیں ۔([2])
علامہ قَاضِی عِیَاض رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : ’’ایسے لوگ جن کی غلطیوں یا گناہوں پر کئی مرتبہ پردہ ڈالا گیالیکن اِس کے باوجودانہوں نے گناہ ترک نہ کیے تو ایسوں کا پردہ چاک کرنا واجب ہے کیونکہ بارباراُن کی پردہ پوشی اُن کے گناہوں پر مُعاوَنت کے مُترادِف ہے۔ (اور یہ )پردہ اُس معصیت کا ہے جو گزر چکی ہو۔ (لیکن) اگر کوئی شخص اپنے سامنے کسی کو معصیت کرتے ہوئے دیکھے اور اُس کو روکنے پر قادر ہو تو اُسے روکنا واجب ہے اور اگر وہ اُس پر قادر نہ ہو تو اُس معاملے کوحکام بالا(سلطان یاقاضی)کے پاس لے جائے ۔ ‘‘([3])