Book Name:Parda Poshi
امام نووی رحمۃُ اللہِ علیہ فرماتے ہیں : اگر کسی نے گواہوں، نیز صدقات، اوقاف اور یتیموں کے مال کے نگرانوں میں کوئی ایسا عیب دیکھا ہے جو ان کی اہلیت کو داغدار كرچکا ہے تو پھر ضرورت کے وقت ان پر جرح (یعنی ان کے کردار کی خرابی بیان) کرنا واجب ہےاور ان کی پردہ پوشی جائز نہیں اور نہ ہی یہ غیبت کے زُمرے میں آئے گا بلکہ یہ ضروری نصیحت کے دائرے میں آتا ہے اور اس پر اجماع ہے۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اس سے معلوم ہوا کہ اگرچہ پردہ پوشی بڑی فضیلت والا عمل ہے لیکن اس میں بھی کچھ حدود وقیود ہیں ، لہٰذا پردہ پوشی کرتے وقت ان کا خیال رکھنا ضروری ہے ۔ جیسا کہ حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم کا فرمان ہے: ’’جو خیانت کرنے والے کی پردہ پوشی کرتا ہے وہ اُسی کی مثل ہے۔‘‘([2]) یعنی خیانت کرنےوالے کے اِس بُرے فعل کو چھپانا بھی خیانت کرنے میں شریک ہوناہے۔
اللہ پاک ہمیں شریعتِ مطہرہ کے مطابق اپنے مسلمان بھائیوں کی پردہ پوشی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اٰمین بجاہ ِ خاتم ِالنبیین صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم
آئیے ! پردہ پوشی کے بارے میں امیر اہلسنت دامت بَرَکاتُہمُ العالیہ کے مدنی مذاکروں اور مرکزی مجلس شوریٰ کے مدنی مشوروں سے چند خوبصورت مدنی پھول ملاحظہ فرمائیں :
مدنی مذاکروں اور مرکزی مجلسِ شوری کے مدنی مشوروں سے ماخوذ مدنی پھول
* کام کرنے والابھول کرتا ہے درگز ر کرتے ہوئے ماتحت کی کمزوری اور کوتاہی کوچھپانا