Parda Poshi

Book Name:Parda Poshi

عیبوں کو بھی دیکھ لے، اِس سے وہ دوسرے کے  عیب کو لوگوں میں بیان کرنے سے باز رہے گا  اور یوں اس عیب پر پردہ پوشی بھی ہو جائے گی۔)

یاد رکھیں!جس طرح عیب  اُچھالنا بڑے گناہ کا کام ہے اسی طرح  کسی کے متعلق  کوئی بات بڑھا چڑھا کر بیان کرنا  اس شخص کو برہنہ کرنے سے بھی بڑھ کر گناہ ہے  جیسا کہ

حضرت عیسیٰ علیہ السّلام  نے اپنے حواریوں سے فرمایا : اگر تم اپنے بھائی کو اس حال میں سوتا پاؤ کہ ہوا نے اس سے کپڑا ہٹا دیاہے(یعنی ستر ظاہر ہو رہا ہے ) تو تم کیا کرو گے ؟ انہوں نے عرض کی : اُس کی سترپوشی کریں گے اور اسے ڈھانپ دیں گے ۔ توآپ علیہ السّلام  نے فرمایا : بلکہ تم اُس کا ستر کھول دو گے ۔ حواریوں نے تعجب کرتے ہوئے کہا : یہ کون کرے گا؟  تو آپ علیہ السّلام  نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کے بارے میں کچھ سنتا ہے تو اسے بڑھا چڑھا کر بیان کرتا ہے اور یہ اُسے بَرہنہ کرنے سے بڑا گناہ ہے ۔([1])

پردہ پوشی کی فضیلت

پیارے اسلامی بھائیو!  جہاں تک شریعت اجازت دے ، پردہ پوشی فرمائیے، آئیے پردہ پوشی کے فضائل پر تین روایات ملاحظہ فرمائیں  ۔

*    رسولِ کریم   صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم  کا فرمان جنّت نشان ہے:جو شخص اپنے بھائی کا عیب دیکھ کر اس کی پردہ پوشی کردے تو وہ جنَّت میں داخِل کردیا جائے گا ۔([2])    

*    نبی مکرّم ،رسولِ محتشم  صلی اللہ علیہ و اٰلِہ وسلم کا فرمانِ خوشبودار ہے:جس نے کسی مسلمان کا عیب چھپایا گویا اس نے زندہ درگور  بچی کو زندہ کیا(یعنی اس کی جان بچائی)۔‘‘ ([3])


 

 



([1])...احیاء علوم الدین،کتاب آداب الالفۃ والاخوۃ،الباب الثانی،حق الثالث۔۔۔الخ ،والامر الثانی ،2 /220

([2])...مُسند عَبْد بن حُمَیْد،  ص279 ، حدیث: 885

([3])...مکارم الاخلاق للخرائطی،باب مایستحب للمرء من ستر عورۃ اخیہ المسلم  ومالہ من الثواب،3/14 ، حدیث 534