ہماری عادتیں

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جو ہم کبھی کبھار کرتے ہیں اور کچھ کام وہ ہوتے ہیں جو ہم بار بار کرتے ہیں، کسی کام کو بار بار کرنا ہماری عادت (Habit) کہلاتا ہے، پھر عادتیں اچّھی بھی ہوتی ہیں اور بُری بھی!

عادتوں کی 25اقسام:

 عادتیں کئی طرح کی ہوتی ہیں مثلاً: (1)سوچنے کی عادت: یہ عادت مثبت (Positive) بھی ہوسکتی ہے اور منفی (Negative) بھی، کچھ لوگوں کو کیسی ہی اچھی چیز کیوں نہ دکھا دیں وہ غلط رائے ہی قائم کرتے ہیں اور بعض کو نقصان پہنچ جائے تو بھی وہ اس میں خیر (بھلائی) کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں (2)کھانے پینے کی عادت: بعض لوگ زندہ رہنے کے لئے کھاتے ہیں اور بعض کھانے کے لئے زندہ رہتے ہیں، چنانچہ بعض لوگ بے تُکے انداز میں کھاتے پیتے ہیں تو بعض مہذّب انداز میں! چنانچہ ہر ایک کے کھانے پینے کی عادت میں فرق ہوتا ہے (3)ردِّعمل کی عادت: ایک دم خوشخبری ملے یا غم ناک خبر! بعضوں کا ردِّعمل (Reaction) نپا تُلا ہوتا ہے اور وہ پہلے سوچتے ہیں پھر ردِّعمل دیتے ہیں، جبکہ بعض خوشی ملنے پر آپے سے باہر ہوکر عجیب و غریب حرکتیں کرتے ہیں جبکہ غم کی خبر سننے پر ہوش کھو بیٹھتے ہیں (4)بولنے کی عادت: بعض ایسی پست آواز میں گفتگو کرتے ہیں کہ کان منہ کے قریب لے جانا پڑتا ہے اور بعض ایسی بلند آواز میں گفتگو کرتے ہیں کہ گویا دوسری گلی میں کسی سے بات کررہے ہیں، بعضوں کے کلام کی رفتار (Speed) بہت آہستہ ہوتی ہے کہ سننے والا تھک جاتا ہے اور بعض اتنا تیز بولتے ہیں کہ سننے والے کو سمجھ ہی نہیں آتی (5)چلنے کی عادت :بعضوں کا چلنے کا انداز با وقار، مُہَذَّب اور درمیانی رفتار والا ہوتا ہے جبکہ بعض سینہ کھولے ادھر ادھر اوپر نیچے دائیں بائیں دیکھتے ہوئے حواس باختہ ہوکربہت تیزی سے چلتے ہیں (6)محسوس کرنے کی عادت: بعض بڑی سی بڑی بات بھی محسوس (Feel) نہیں کرتے جبکہ کچھ لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں پر رُوٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں (7)معافی مانگ لینے کی عادت :بعضوں میں اپنی غلطیوں (Mistakes) کو تسلیم کرکے معافی مانگنے کا حوصلہ ہوتا ہے جبکہ کچھ لوگ معافی تو دُور کی بات اپنی غلطی ماننے سے ہی انکار کردیتے ہیں (8)سیکھنے کی عادت: بعضوں کو کچھ نیا سکھانا بہت دشوار ہوتا ہے وہ یہ کہہ کر جان چھڑا لیتے ہیں کہ ہم سیکھے ہوئے ہیں ہمیں مت سکھاؤ جبکہ کچھ لوگ عمر کے کسی بھی حصّے میں سیکھنے کے لئے تیار رہتے ہیں  (9)سننے کی عادت: بعضوں کو صرف اپنے مطلب کی بات سننے میں دلچسپی ہوتی ہے، ایسے لوگ کئی اہم باتوں کو اہمیت نہیں دیتے بعض اوقات بات کاٹ کر اپنی ہانکنا شروع کردیتے ہیں ،جب کہ کچھ لوگ دوسروں کی جائز باتیں غور سے سنتے ہیں جس کے نتیجے میں دوسرے بھی انہیں توجّہ سے سنتے ہیں (10)جلد بازی کی عادت:ٹھہراؤ اور بُردباری(برداشت) کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے ورنہ عموماً لوگ ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں ہر کام میں جلدی مچاتے ہیں اور اکثر نقصان اٹھاتے ہیں (11) رعب جمانے کی عادت: بعضوں کی عادت ہوتی ہے کہ دوسروں کو کمزور دیکھ کر اپنی طاقت کا رُعب جھاڑنے لگتے ہیں، اگر سیر کو کبھی سوا سیر مل جائے تو ان کا سارا رُعب جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے (12) گھریلو معاملات سے کنارہ کش رہنے کی عادت:  گھر میں جھگڑا ہو یا کسی اہم بات کا فیصلہ ،بعض لوگ گھریلو معاملات سے بالکل الگ تھلگ رہتے ہیں ،بچے کیا پڑھ رہے ہیں ؟ کیا سن رہے ہیں؟ کیسے دوستوں کے ساتھ اُٹھ بیٹھ رہے ہیں ؟ ان کو پرواہ نہیں ہوتی یہ سمجھتے ہیں کہ گھر کے اخراجات کی رقم دینے کے بعد ان کی ذمہ داری ختم ہو گئی ہے۔ (13)لیٹ ہونے کی عادت: بعضوں کو تاخیر سے پہنچنے کی ایسی عادت ہوتی کہ دعوت، شادی ، دفتر ، ائیر پورٹ ، اسٹیشن ! یہ ہر جگہ لیٹ ہی پہنچتے ہیں(14)دخل اندازی کی عادت: بعضوں کو دخل اندازی (interfere)کی ایسی عادت پڑ جاتی ہے کہ گھرہو یا انتظار گاہ! ٹرین ،بس ہو یا جہاز ! یہ دوسروں کے معاملات میں ضَرور ٹانگ اڑاتے ہیں اور بعض اوقات بے عزّت بھی ہوجاتے ہیں (15) علاج بتانے کی عادت:بعض لوگ بغیر فیس،بغیر ڈگری  کے ڈاکٹر بن کر گھومتے ہیں اور جہاں کسی کو سردردیا کسی اور بیماری وغیرہ میں مبتلا دیکھا جھٹ سے علاج بتا دیتے ہیں حالانکہ غیر طبیب کو علاج کرنایا بتانا حرام ہے (16) بن مانگے مشورہ دینے کی عادت :بعض لوگ جیب میں مشورے  لے کر پھرتے ہیں کوئی مانگے نہ مانگے!  مانے نہ مانے یہ اپنا مشورہ ایسے پیش کرتے ہیں کہ اگر ان کے مشورے پر عمل نہ ہوا توگویا آسمان ٹوٹ پڑے گا (17)حوصلہ شکنی کی عادت: بعضوں نے کسی کی پیٹھ تھپکنا(حوصلہ افزائی کرنا) سیکھا ہی نہیں ہوتا کوئی کیسی ہی اچّھی کارکردگی دکھائے یہ اس میں بھی کیڑے نکال کر حوصلہ شکنی شروع کردیتے ہیں (18)شکایتوں کی عادت: بعضوں کودوسروں کی شکایت کرنے کی ایسی عادت ہوتی ہے کہ گھر، جامعہ، دفتر کسی جگہ باز نہیں رہتے (19)تنقید کی عادت : تنقید کس پر کون کس انداز سے کرے!  یہ ایک گُر ہے جس کو آجائے تو بہت ہی اچّھا ہے لیکن بعض لوگ اناڑی سَرجَن کا کردار ادا کرتے ہیں اور ہر وقت دوسروں پر تنقید کے تیر برساتے نظر آتے ہیں (20)مایوسی پھیلانے کی عادت: حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے ،کبھی دن بڑے ہوتے ہیں تو کبھی راتیں !مشکل حالات میں مایوس ہوجانے سے مسئلہ حل نہیں ہوتا لیکن بعض لوگوں کو مایوسی پھیلانے کی عادت ہوتی ہے، یہ انسان کی ہمت بڑھانے کے بجائے بڑی مہارت سے بتاتے ہیں کہ مسائل حل کرنے کے لئے کی جانے والی کوشش کس کس طرح ناکام ہوسکتی ہے!(21)ٹالنے کی عادت: بعضوں کو  کیسا ہی آسان کام بولا جائے وہ اتنا کم حوصلہ  رکھتے ہیں کہ فوری اس کام کو کر ہی نہیں سکتے اور ٹالنے ہی کو عافیت جانتے ہیں (22)خود غرضی کی عادت: بعضوں کا دل بہت تھوڑا ہوتا ہے انہیں ہر اچّھے کام میں بھی اپنا مفاد عزیز ہوتا ہے (23) سوشل میڈیا کے استعمال کی عادت: آج کل جسے دیکھو سوشل میڈیا کا شائق دکھائی دیتا ہے،ہر دومنٹ بعد چیک کرتے ہیں ، لائک (like)کرتے ہیں، کمنٹس (comments) دیتے  ہیں ،ایسے لوگ  گھر دفتر کاروبار ہر جگہ اپنا وقت ہی ضائع کرتے نظر آتے ہیں  (24)پان گٹکا کھانے کی عادت: ایسے لوگوں  کی بھی ایک تعداد ہے،جو اس کا نقصان اٹھاتی ہے (25)فضول خرچی کی عادت: بعضوں کو ہزار دیں یا لاکھ یا پھر کروڑ روپے ! انہوں نے حسبِ عادت فضول خرچی ہی کرنا ہوتی ہے، جو لوگ چادر دیکھ کر پاؤں نہیں پھیلاتے بالآخِر نقصان اُٹھاتے ہیں۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! یہ چند عادتیں بطور نمونہ گنوائی ہیں، اگر ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہئے کہ اچھی عادتیں اپنائے رکھیں اور بُری عادتیں چھوڑ دیں ۔’’ بُری عادتیں کیسے چھوڑی جائیں؟‘‘ یہ جاننے کے لئے ”ماہنامہ فیضانِ مدینہ (شعبان المعظم1439ھ)“کاانتظار کیجئے ۔

مِری عادتیں ہوں بہتر بنوں سُنَّتوں کا پیکر

مجھے مُتّقی بنانا مَدَنی مدینے والے

 (وسائلِ بخشش مُرَمَّم،ص428)

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

٭ مُدَرِّس مرکزی جامعۃ المدینہ، باب المدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code