Book Name:Ikhtiyarat e Mustafa
پاکیزگی اور اللہ پاک کی رِضا کا ذریعہ ہے۔([1])
آقا کی آمد …مرحبا سَیِّد کی آمد …مرحبا جَیِّد کی آمد …مرحبا طاہِرکی آمد …مرحبا حاضِر کی آمد …مرحبا ناظِرکی آمد …مرحبا ناصِرکی آمد …مرحبا ظاہِرکی آمد… مرحبا باطن کی آمد …مرحبا حامی کی آمد …مرحبا آقائے عطارؔکی آمد…مرحبا مُختار کی آمد …مرحبا مُختار کی آمد …مرحبا مُختار کی آمد …مرحبا
مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمّد
حَرَم شریف کی گھاس کاٹنا حلال فرمادِیا
فتحِ مکہ کے موقع پرسرکارِ نامدار،دوعالَم کے مالک و مختار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حَرَمِ مکّہ کی گھاس وغیرہ کاٹنے کی حُرمَت بیان کرنے کے بعد حضرت عبّاس رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی گُزارِش پر اپنے خاص اِخْتِیارات کا اِسْتعمال کرتے ہوئے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی ضرورتوں کی وجہ سے حَرَم شریف سے اِذخِر نامی گھاس کاٹنے کو حلال و جائز قرار دِیا جیساکہ حدیثِ پاک میں ہے کہ
نبیِ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:اِنَّ اللہَ حَرَّمَ مَـکَّۃَ بے شک اللہ پاک نے مکّے شریف کو حَرَم بنایا ہے،لہٰذا نہ یہاں کی گھاس اُکھیڑی جائے اور نہ ہی یہاں کا درخت کاٹا جائے (کہ یہ سب کام حَرَمِ مکّہ میں حرام و ممنوع ہیں)۔اِس پر حضرتِ عباس بن عبدُ المُطَّلِب رَضِیَ اللہُ عَنْہُنے عَرْض کی: اِلَّا الْاِذْخِرَ لِصَاغَتِنَا وَلِسُقُفِ بُیُوْتِنَا یعنی ہمارے سُناروں اور ہمارے گھر کی چھتوں کے لئے اِذخِر گھاس کو جائز فرما دیجئے!(یہ ہمارے بہت کام آتی ہے)چُنانچہ نبیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : اِلَّا الْاِذْخِرَ