Book Name:Ikhtiyarat e Mustafa
معلوم ہوا کہ کسی بھی معاملے میں تنہا مرد کی گواہی شَرعاًقبول نہیں، یہی اللہ پاک کا حکم ہے جو تمام مُسلمانوں کیلئے ہے، مگر حُضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے اپنی مرضی مُبارک سے حضرت خُـزَیـْمَہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو اِس حکمِ عام سے بَری اور آزاد قرار دیتے ہوئے کسی بھی مُعاملے میں اِن کی تنہا گواہی کو دو مَردوں کی گواہی کے برابر کر دِیا اور ارشاد فرمایا:مَنْ شَھِدَ لَہُ خُزَیْمَۃُ اَوْ شَھِدَ عَلَیْہِ فَہُوَ حَسْبُہُ یعنی خُـزَیـْمَہ (رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) کسی کے حق میں گواہی دیں یا کسی کے خلاف گواہی دیں ،اِن کی تنِ تنہا گواہی کافی ہے۔ ([1]) (یعنی اِن کے گواہی دےدینے کے بعد گواہی کا نِصاب پورا کرنے کے لئے کسی دوسرے گواہ کی ضرورت نہیں)۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
عِدّت کے حکم میں اِخْتِیارِ نبوی
اگر کسی عورت کا شوہر مر جائے اور وہ حامِلہ نہ ہو تو اُس کی عدّت اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں چار (4)ماہ دس (10)دن بیان فرمائی ہے، جیساکہ پارہ 2 سُوْرَۃُ الْبَقَرَہ کی آیت نمبر 234 میں ارشاد ہوتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ یُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَ یَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا یَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّ عَشْرًاۚ- (پ ۲، البقرۃ:۲۳۴)
تَـرْجَمَۂ کنز العرفان :اور تم میں سے جو مرجائیں اور بیویاں چھوڑیں تو وہ بیویاں چار مہینے اوردس دن اپنے آپ کو روکے رہیں۔
صدْرُ الْافَاضِل حضرت علّامہ مولانا سَیِّد مُفتی محمد نعیمُ الدِّین مُراد آبادیرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ اس آیتِ مُبارکہ کی تفسیر بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ حامِلہ کی عدّت تو وَضْعِ حَمَل ہے (یعنی بچّہ جنتےہی عِدَّت ختم ہوجائے گی)جیسا کہ سورۂ طلاق میں مذکور ہے،یہاں غیرِ حامِلہ کابیان ہے، جس کا شوہر مرجائے ،اُس کی عدّت چار (4)ماہ دس (10)روز ہے۔اِس مُدّ ت میں نہ وہ نکاح کرے،نہ اپنا مَسْکَن(یعنی شوہر کا گھر) چھوڑے، نہ بےعُذر تیل لگائے،نہ خوشبو لگائے، نہ سِنگار کرے،نہ رنگین اور ریشمی کپڑے پہنے نہ