Ikhtiyarat e Mustafa

Book Name:Ikhtiyarat e Mustafa

نہیں،تمام آدمیوں کے مالک ہیں،جو اُنہیں اپنا مالک نہ جانے حلاوتِ سنّت(یعنی سنّت کی مِٹھاس) سے محروم رہے، تمام زمین اُن کی مِلک ہے، تمام جنّت اُن کی جاگیر ہے، مَلَکُوْتُ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْض(یعنی آسمان و زمین کی سَلْطَنَتیں)حضور (صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے زیر ِفرمان، جنّت و نار کی کُنْجِیاں دستِ اَقْدَس میں دے دی گئیں ، رِزْق و خیر اور ہر قِسَم کی عطائیں،حضور (صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) ہی کے دربار سے تَقْسِیْم ہوتی ہیں، دُنیا و آخرت، حضور(صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی عطا کا ایک حِصَّہ ہے۔شریعت کے اَحْکام حضور (صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے قبضے میں کر دئیے گئے کہ جس پر جو چاہیں حرام فرمادیں اور جس کے لئے جو چاہیں حلال کر دیں اور جو فرض چاہیں معاف فرما دیں۔([1])

 پیارےاسلامی بھائیو! آئیے اِس ضمن میں اِخْتِیاراتِ مُصْطَفٰے  صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے چند واقعات سُنتے ہیں:

فرضیّتِ حج میں اِخْتِیارِ مُصْطَفٰے

جب اللہ  پاک نے اپنے بندوں پر حج فرض فرمایا اور رحمتِ عالَم، نورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے خُطبہ میں حج کی فَرْضِیَّت کا اِعْلان کرتے ہوئے فرمایا :اَيُّهَا النَّاسُ قَدْ فَرَضَاللہُ عَلَيْكُمُ الْحَجَّ فَحُجُّوا یعنی اے لوگو! اللہ پاک نے تم پر حج کو فرض فرما دِیا ہے، لہٰذا حج کِیا کرو۔تو ایک صحابیِ رسول(حضرت  اَقْرَع بن حابِسرَضِیَ اللہُ  عَنْہُ) نے عَرْض کی:یارَسُوْلَاللہ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ!کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟3 مرتبہ اُنہوں نے یہی سوال کِیا، مگر ہر مرتبہ رسولوں کے سالار، نبیِ مُخْتار صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے خاموشی ہی اِخْتِیار فرمائی پھر  ارشاد فرمایا: لَوْ قُلْتُ:نَعَمْ لَوَجَبَتْ اگر میں نے ”ہاں“ کہہ دِیا ہوتا تو ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا۔([2])


 

 



[1] بہار شریعت،حصہ۱،۱/۷۹ تا۸۵ بتغیر

[2] مسلم،کتاب الحج،باب فرض الحج  مرۃ فی العمر،ص۶۹۸، حدیث:۱۳۳۷