Book Name:Ikhtiyarat e Mustafa
پیارے اسلامی بھائیو!آج ہم حضرت آمنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کے گلشن کے مہکتے پھول،رسولِ مقبول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شان و عظمت کامبارک ذِکر کرکے اپنے دامن کورحمتوں اوربرکتوں سے بھرنے کی کوشش کریں گے۔آج کے بیان میں ہم یہ بھی سُنیں گے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے، ہمارے آقا،دوعالم کے داتا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کیاکیا اِختیارات عطا فرمائے، حکومتِ مصطفیٰ کیسی شان والی ہے،توجہ کے ساتھ سُنیں گے،سمجھیں گے تو اِنْ شَآءَ اللہ اخوب خوب برکتیں ورحمتیں حاصل ہوں گی۔
آئیے!بیان سےقبل ،عاشقِ ماہِ میلاد و عاشقِ ماہِ رِسالت،امیرِ اہلسنّت حضرت علامہ مولانا محمد الیاس عطارؔ قادِری دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ نعروں سے سرکار کی ولادت کی دھوم مچاتے ہیں۔ہوسکے تو مدنی پرچم لہرا لہراکرخوب جوش و جذبے،محبت و عقیدت کے ساتھ مرحبا یا مصطفیٰ کی دُھوم مچائیے۔
سرکار کی آمد …مرحبا ! سردار کی آمد …مرحبا! پیارے کی آمد …مرحبا! اچھے کی آمد … مرحبا ! سچے کی آمد …مرحبا ! سوہنے کی آمد …مرحبا ! موہنے کی آمد …مرحبا ! حضور کی آمد … مرحبا! پُر نور کی آمد …مرحبا! مُختار کی آمد …مرحبا ! آمنہ کے پھول کی آمد …مرحبا! رسولِ مقبول کی آمد …مرحبا! آقائے عطار کی آمد …مرحبا!
مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی مرحبا یا مصطفی
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
دو عالَم کے مالک و مُختار، شفیعِ روزِ شُمار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا اِرشادِ حقیقت بُنیاد ہے:جب قیامت کا دن ہوگا تو لوگ اِکَھٹّے ہوکر حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام کی بارگاہ میں حاضر ہوں گے اور عَرْض کریں گے کہ آپ اپنے رَبّ کی بارگاہ میں ہماری شفاعت کیجئے۔ وہ فرمائیں گے: میں اِس کے لئے نہیں ،لیکن تم حضرت ابراہیمعَلَیْہِ السَّلَام کا دامن پکڑو،کیونکہ وہ اللہ پاک کے خلیل ہیں تو وہ حضرت اِبْراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس