Har Simt Chaya Noor Hay

Book Name:Har Simt Chaya Noor Hay

یہ اُمَّت گنہگار ہے اور ربِّ کریم بہت بخشنے والا ہے۔ پھر اللہ  پاک نے تیسرے حصے سے عرش کو پیدا کیا۔ پھر چوتھے  حصے کے مزید چار(4) حصے کرکے پہلے حصے سے عقل، دوسرے سے مَعْرِفَت، تیسرے سے سورج، چاند، آنکھوں کا نور اور دِن کی روشنی پیدا فرمائی اور یہ سب حقیقتاً نور والے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہی کے انوارہیں۔ پس آپ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ تمام کائنات کی اصل ہیں۔ اس کے بعد اللہ  پاک نے نور کی اس چوتھی قسم کے چوتھے حصے کو اَمانت کے طور پر عرش کے نیچے رکھ دیا۔پھر جب اللہ  پاک نے حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَامکو پیدا فرمایا تو وہ نور ان کی پُشت مبارک میں رکھا۔ پھر وہ مبارَک نور ہمیشہ پاکیزہ اور بلند لوگوں میں منتقل ہوتا رہا۔ یہاں تک کہ پاک وصاف اور عزت و تکریم کی حالت میں حضرت عبدُاللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ   تک پہنچا۔

پھر جب اللہ پاک نے نورِ محمدی کو سَیِّدہ آمنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا کے بطنِ اَطہَر کی طرف منتقل فرمایا تو اس منتقلی کے ساتھ ہی بڑی بڑی نشانیاں ظاہر ہونے  لگیں۔ساری مخلوق ایک دوسرے کو خوش خبریاں دینے لگی، زمین و آسمان میں اعلان کر دیا گیا:اے عرش! عزت و سنجیدگی کا نقاب اوڑھ لے۔اے کُرسی! فخر کی زِرہ پہن لے۔ اے سِدرۃُ المنتہیٰ! خوشی سے جھوم جا۔ اے ہیبت اور رعب و دبدبہ کے انوار! تم بھی خوب روشن ہو جاؤ۔ اے جنّت!خوب آراستہ ہو جا۔اے مَحلَّات کی حُورو !تم بھی بلندی سے دیکھو۔اے رضوان(باغبانِ جنت)!جنت کے دروازے کھو ل دے اور حُور و غِلماں کو سامانِ زینت سے آراستہ کر کے کائنات کو خوشبوؤں سےمہکا دے۔ اے مالک(داروغۂ جہنم)! جہنم کے دروازے بند کر دے۔ کیونکہ آج کی رات میری قدرت کے خزانوں میں چھپاہوا نور راز عبدُاللہ(رَضِیَ اللہُ عَنْہُ)سے جدا ہو کر آمنہ(رَضِیَ اللہُ عَنْہا)کے بطنِ پاک میں منتقل ہونے والا ہے اور جس گھڑی یہ نور منتقل ہو گا،اُسی لمحے میں اپنے محبوب(صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کو مکمل صورت دے دوں گا۔منقول ہے:نورِمحمدی کی منتقلی کی رات ہر گھر اور مکان میں نور داخل ہوگیا اور ہر چار پاؤں والا جانورکلام میں گم ہو گیا۔ حضرت