Book Name:Ameer e Ahl e Sunnat Ki Quran Se Muhabbat
اب امیرِ اہلسنّت کی کمال حکمتِ عملی کہ آپ اسٹیج پر آنے کی بجائے، عوام کی نظروں سے بچ کر سیڑھیوں پر ہی بیٹھ گئے اور توجُّہ کے ساتھ تِلاوت سننے لگے۔ جب تِلاوت مکمل ہوئی تو کسی نے پوچھا: آپ اسٹیج پر کیوں نہیں چڑھے، سیڑھیوں پر ہی کیوں بیٹھ گئے، اس میں کیا حکمت تھی؟ امیرِ اہلسنّت نے فرمایا: قرآنِ کریم میں ہے:
وَ اِذَا قُرِئَ الْقُرْاٰنُ فَاسْتَمِعُوْا لَهٗ وَ اَنْصِتُوْا لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُوْنَ(۲۰۴) (پارہ:9، الاعراف:204)
ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: اور جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سنو اور خاموش رہو تاکہ تم پر رحم کیا جائے۔
مزید فرمایا:فتاویٰ رضویہ میں ہے: جب بُلند آواز سے قرآنِ پاک پڑھا جائے تو حاضِرین پر سُننا فرض ہے جبکہ وہ مجمع سننے کی غرض سے حاضِر ہو۔ ([1])
یہ قرآنی آیت اور فتاویٰ رضویہ شریف سے مسئلہ بتانے کے بعد امیرِ اہلسنّت نے فرمایا: میں اجتماع میں پہنچا تو تلاوت جاری تھی، اب اگر میں سیدھا اسٹیج پر چلا جاتا تو خطرہ تھا کہ کوئی اسلامی بھائی اِستقبالی نعرہ لگا دیتا اور دورانِ تلاوت ایسا ہر گز نہیں ہونا چاہئے۔ لہٰذا میں نے لوگوں کی نظر سے چھپ کر اسٹیج کی سیڑھیوں پر بیٹھ جانے ہی میں عافیت جانی۔([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اللہ پاک کی امیرِ اہلسنّت پر کروڑوں رحمتیں برسیں...!!غور فرمائیے! کیسی گہری بات ہے، کیسی نِرالی احتیاط ہے...!! بدقسمتی سے آج کل ایسا ماحول کم دیکھنے کو ملتا ہے، قرآنِ کریم کی تِلاوت ہو رہی ہوتی ہے اور لوگ اجتماع گاہ میں بیٹھے ہوئے بھی گپوں میں مصروف ہوتے ہیں، اِدھر اُدھر دیکھ رہے ہوتے ہیں، تَوَجُّہ سے تِلاوت سُن