Book Name:Ameer e Ahl e Sunnat Ki Quran Se Muhabbat
یعنی اللہ کریم کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مصافحہ کریں اور نبیِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ پر دُرودِ پاک بھیجیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئیے جاتے ہیں۔ (مسند ابی یعلیٰ،مسند انس بن مالک،۳/۹۵حدیث:۲۹۵۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرمانِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم:اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّۃُ الصَّادِقَۃُ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ([1]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم حاصل کرنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
1418 ہجری کی بات ہے، ربیع الاوّل شریف کا مہینا تھا، 12 وِیں رات تھی اور کراچی میں جشنِ وِلادت کی خوشی میں عظیم الشان اجتماعِ ذِکْر و نعت کا سلسلہ تھا۔ تقریباً رات کے 12 بج رہے تھے کہ امیرِ اہلسنّت مولانا الیاس عطّار قادری دَامَت بَرَکاتہمُ الْعَالِیَہ بیان کرنےکیلئے اجتماعِ پاک میں پہنچے۔ اتفاق سے اس وقت تِلاوت ہو رہی تھی۔