صبر اور انبیاء علیہم الصَّلوٰۃ و السَّلام

تفسیر قراٰنِ کریم

صبر اور انبیاء علیہم الصّلوٰۃُوالسّلام  ( قسط : 01 )

*مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ فیضان مدینہ اگست2023

اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا : ( اِنَّ اللّٰهَ مَعَ الصّٰبِرِیْنَ ( ۱۵۳ ) ) ترجمہ : بیشک اللہ صابروں کے ساتھ ہے۔ ( پ 2 ، البقرۃ : 153 )  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

تفسیر :

اس آیت میں صبرکی عظیم فضیلت بیان فرمائی کہ اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور حمایت و اعانت صبروالوں کے ساتھ ہے۔ صبر کا لفظی معنی ’’ روکنا‘‘ہے اور شریعت کی اصطلاح میں صبر کا معنیٰ ہے : ’’  نفس کو ا س چیز پر روکنا ، ٹھہرانا ، جمانا ، ثابت قدم کردینا ، جس پر جمے رہنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے بچنے کا عقل اور شریعت تقاضا کر رہی ہو۔ “  ( المفردات ، ص273 )  اس اعتبار سے خدا کی مرضی اور حکم پر خود کو لگا دینا اور اس پر جمے رہنا بھی صبر ہے اورگناہوں سے رکنا بھی صبر ہے۔ اسی میں صبر کی صورت میں یہ بھی داخل ہے کہ مشکلات کے وقت چیخنے چلانے ، واویلا کرنے ، دوسروں کو بتاتے پھرنے اور بے صبری و ناشکری کے کلمات کہنے سے زبان کو روکا جائے۔

زندگی خوشیوں کا ساگر ہے ، نہ غم کا دریا۔ ایسا شخص ڈھونڈے سےبھی نہیں ملے گا جسے زندگی میں کبھی معمولی سی بھی تکلیف نہ پہنچی ہو اور نہ ہی ایسا کوئی ملے گا جس نے پریشانی ، تکلیف اور غم کے سوا کچھ نہ دیکھا ہو۔ زندگی خوشی و غمی کے مجموعے سے ترتیب پاتی ہے اور بندہ مؤمن خوشی کو شکر کے ساتھ زینت دیتا اور غم کو صبر کے ساتھ زائل کرتا ہے اور خدا کا قرب و مَعِیَّت اور رضا و جنت کی بشارت تو کاملین کے لیے صبر کو نہایت خوشنما بنادیتی ہے۔ غم زندگی  کا لازم حصہ ہے ، بقولِ شاعر

قیدِ حیات و بندِ غم اصل میں دونوں ایک ہیں

موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

قرآن مجید نے کائنات کے افضل ترین انسانوں یعنی انبیاء کرام علیہم الصّلوٰۃُوالسّلام کی پاکیزہ زندگیاں جن عظیم مقاصد کے لیے بیان فرمائی ہیں ، ان میں ایک مقصد پاکیزہ زندگی کے حقیقی عناصر کی عملی تصویر پیش کرنا بھی ہے۔ احقاقِ حق ، ابطالِ باطل ، عبدیت و محبت ، اعلائے کلمۃ اللہ ، خوف و رَجا ، تقویٰ و ورع اور حکمرانی و مصالحِ اُمّت ، شکر و صبر اِن تمام صفاتِ عالیہ میں ان پاک ہستیوں کا کردار کیسا تھا ؟ قرآن مجید اِسی کے بیان پر مشتمل ہے۔ اس مضمون میں انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسَّلام کی حیاتِ طیبہ میں وصفِ صبر کو قرآن مجید کی روشنی میں ملاحظہ کریں۔

حضرت نوح علیہ السّلام اور صبر :

حضرت نوح علیہ السّلام کی زندگی جہدِ مسلسل سے عبارت ہے ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبلیغِ دین کےلیے طویل عرصہ عطا فرمایا ، قرآن مجید میں ہے : ( فَلَبِثَ فِیْهِمْ اَلْفَ سَنَةٍ اِلَّا خَمْسِیْنَ عَامًاؕ )  ترجمہ : تو وہ ( نوح )  ان  ( قوم ) میں پچاس سال کم ایک ہزار سال رہے۔ ( پ 20 ، العنکبوت : 14 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   اِس ساڑھے نو سو سال کی زندگی میں آپ مسلسل قوم کو توحیدِ خداوندی ، عبادتِ الٰہی اور اپنی اطاعت کی دعوت دیتے رہے ، لیکن اِس کے جواب میں قوم کا طرزِ عمل دشمنی ، استہزاء ، تحقیر اور بدکلامی پر مشتمل رہا ، لیکن اِس کے باوجود آپ نے صبر و ہمت اورحلم و برداشت کا مظاہرہ فرمایا اور اپنی تمام کاوشوں کو خداکے حضور یوں عرض کیا : اے میرے رب ! بیشک میں نے اپنی قوم کو رات دن دعوت دی ، تو میرے بلانے سے ان کے بھاگنے میں ہی اضافہ ہوا اور بیشک میں نے جتنی بار انہیں بلایاتا کہ توانہیں بخش دے توانہوں نے اپنے کانوں میں اپنی انگلیاں ڈال لیں اور اپنے کپڑے اوڑھ لیے اوروہ ڈٹ گئے اور بڑا تکبر کیاپھر یقیناً میں نے انہیں بلند آواز سے دعوت دی ، پھر یقیناً میں نے ان سے اعلانیہ بھی کہا اور آہستہ خفیہ بھی کہا۔ ( پ 29 ، نوح : 5تا9 )  اتنا طویل عرصہ گزرنے کے بعد جب قوم پر ہر طرح حجت تمام اور دلائل واضح ہوگئے ، تب کہیں آپ علیہ السّلام نے خدا کی بارگاہ میں قوم سے نجات کی دعا مانگی اور اللہ تعالیٰ نے اُس دعا کو شرف ِ قبولیت عطا فرمایا۔

 حضرت ابراہیم علیہ السّلام اور صبر :

حضرت ابراہیم علیہ السّلام کی زندگی بھی آزمائشوں اور امتحانات سے بھری ہوئی ہے ، خود رب کریم نے فرمایا : ( وَ اِذِ ابْتَلٰۤى اِبْرٰهٖمَ رَبُّهٗ بِكَلِمٰتٍ فَاَتَمَّهُنَّؕ- )  ترجمہ : اور یاد کروجب ابراہیم کو اس کے رب نے چندباتوں کے ذریعے آزمایا تو اس نے انہیں پورا کردیا۔  ( پ 1 ، البقرۃ : 124 )  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  آپ بہت دفعہ سخت ترین آزمائشوں سے دوچار ہوئے ، مگر راضی برضائے الٰہی رہے اور صبر اور بلند ہمتی کی برکت سے ہر مرتبہ کامیاب و کامران رہے۔ آپ نے اپنے چچا اورپوری قوم کوتنِ تنہا للکار کر بتوں کی پرستش سے منع کیا ، پھر جراءت و ہمت کے ساتھ قوم کے بتوں کو بھی توڑدیاجس کے نتیجے میں قوم نے آپ علیہ السّلام کو زندہ جلادینے کا فیصلہ کیا ، چنانچہ قرآنِ مجید ہے : ( قَالُوْا حَرِّقُوْهُ وَ انْصُرُوْۤا اٰلِهَتَكُمْ اِنْ كُنْتُمْ فٰعِلِیْنَ ( ۶۸ ) ) ترجمہ : بولےان کو جلادو اور اپنے خداؤں کی مدد کرو اگر تم کچھ کرنے والے ہو۔  ( پ 17 ، الانبیآء : 68 )   (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  لیکن حضرت ابراہیم علیہ السّلام نے کمالِ صبر و استقامت و توکل و رضا بالقضاء سے آگ میں ڈالا جانا قبول کرلیا اور خداوندِ قدوس نے صبر و توکل پر اپنی خصوصی معیت و نصرت عطا فرمائی اور آگ کو حکم دیا : ( یٰنَارُ كُوْنِیْ بَرْدًا وَّ سَلٰمًا عَلٰۤى اِبْرٰهِیْمَۙ ( ۶۹ ) ) ترجمہ : اے آگ ! ابراہیم پر ٹھنڈی اور سلامتی والی ہوجا۔ ( پ 17 ، الانبیآء : 69 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)   آگ سے محفوظ واپسی کے بعدصبر و برداشت کا سلسلہ مزید جاری رہا کہ پھر آپ علیہ السّلام نے اپنی اہلیہ اور بھتیجے حضرت لوط علیہ السّلام کے ساتھ ”عراق “ سے ”حَرَّان “ پھر ”حلب “ اور پھر ”جبلِ بیت المقدس “ ہجرت فرمائی۔ آپ نے اِس ہجرت کو خدا کی طرف ہجرت قرار دیا ، چنانچہ ارشاد ہوا : ( وَ قَالَ اِنِّیْ مُهَاجِرٌ اِلٰى رَبِّیْؕ- )  ترجمہ : اور ابراہیم نے فرمایا : میں اپنے رب کی  ( سر زمین شام کی )  طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ ( پ 20 ، العنکبوت : 26 )  (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

پھر خدائی حکم پر اپنی اہلیہ اور چہیتے شہزادے حضرت اسماعیل علیہ السّلام کو ملکِ شام سے آ کر حرم کی ویران وبیابان سرزمین پر چھوڑ آئے ، جہاں میلوں دور تک آبادی کا نشان ، پانی کا قطرہ اوراناج کا دانہ نہیں تھا۔ چنانچہ قرآن مجید میں آپ علیہ السّلام کا کلام یوں مذکور ہے : ( رَبَّنَاۤ اِنِّیْۤ اَسْكَنْتُ مِنْ ذُرِّیَّتِیْ بِوَادٍ غَیْرِ ذِیْ زَرْعٍ عِنْدَ بَیْتِكَ الْمُحَرَّمِۙ - )  ترجمہ : اے ہمارے رب ! میں نے اپنی کچھ اولاد کو تیرے عزت والے گھر کے پاس ایک ایسی وادی میں ٹھہرایا ہے جس میں کھیتی نہیں ہوتی۔ ( پ 13 ، ابراہیم : 37 ) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)    زندگی بھر کی ساتھی اور بڑھاپے کی لاڈلی اولاد کو حکمِ خدا پر بیابان میں چھوڑ آنا صبر کی کیسی عظیم مثال ہے ، اس کا اندازہ شاید ہی کوئی لگا سکے۔

اس کے بعد خدا کے حکم پر اپنے عزیز ، نوجوان بیٹےکی گردن پر چھری چلادی اور بیٹے نے بھی آگے سے صبر و استقامت کا پیکر بن کر دکھادیا۔ قرآنِ حکیم میں اِس داستانِ صبر ووفا کو یوں بیان کیا گیا : ( فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْیَ قَالَ یٰبُنَیَّ اِنِّیْۤ اَرٰى فِی الْمَنَامِ اَنِّیْۤ اَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَا ذَا تَرٰىؕ- قَالَ یٰۤاَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ٘-سَتَجِدُنِیْۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ مِنَ الصّٰبِرِیْنَ ( ۱۰۲ )  فَلَمَّاۤ اَسْلَمَا وَ تَلَّهٗ لِلْجَبِیْنِۚ ( ۱۰۳ )  وَ نَادَیْنٰهُ اَنْ یّٰۤاِبْرٰهِیْمُۙ ( ۱۰۴ )  قَدْ صَدَّقْتَ الرُّءْیَاۚ-اِنَّا كَذٰلِكَ نَجْزِی الْمُحْسِنِیْنَ ( ۱۰۵ ) ) ترجمہ : پھر جب وہ اس کے ساتھ کوشش کرنے کے قابل عمر کو پہنچ گیا توابراہیم نے کہا : اے میرے بیٹے ! میں نے خواب میں دیکھا کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں۔اب تو دیکھ کہ تیری کیا رائے ہے ؟ بیٹے نے کہا : اے میرے باپ ! آپ وہی کریں جس کا آپ کو حکم دیا جا رہا ہے۔ اِنْ شَآ ءاللہ عنقریب آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے۔ تو جب ان دونوں نے  ( ہمارے حکم پر )  گردن جھکادی اور باپ نے بیٹے کو پیشانی کے بل لٹایا  ( اس وقت کا حال نہ پوچھ )  اور ہم نے اسے ندا فرمائی کہ اے ابراہیم ! بیشک تو نے خواب سچ کردکھایاہم نیکی کرنے والوں کوایسا ہی صلہ دیتے ہیں۔ ( پ 23 ، الصّٰٓفٰت : 102تا 105 )         (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)  ( جاری )

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*   نگرانِ مجلس تحقیقات شرعیہ ، دارالافتاء اہل سنّت ، فیضان مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code