قرآن  اور صِدّیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ کی شان(دوسری اور آخری قسط)

تفسیر قرآنِ کریم

قرآن اور صدیق اکبر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کی شان (دوسری اور آخری قسط)

*مفتی محمد قاسم عطّاری

صدیق اکبر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کی تیسری شان، تقویٰ:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کے خوفِ خدا، رُجوع اِلَی اللہ اور تقویٰ کا گواہ خود قرآن ہے، چنانچہ آپ کی شان میں یہ آیات اتریں:

( اِنَّ سَعْیَكُمْ لَشَتّٰىؕ (۴) فَاَمَّا مَنْ اَعْطٰى وَاتَّقٰىۙ (۵) وَصَدَّقَ بِالْحُسْنٰىۙ (۶)فَسَنُیَسِّرُهٗ لِلْیُسْرٰىؕ (۷))

ترجمہ: (اے لوگو) بیشک تمہاری کوشش (اعمال)ضرور مختلف قسم کی ہے، تو بہر حال وہ جس نے دیا اور پرہیزگاربنا اور سب سے اچھی راہ کو سچا مانا۔تو بہت جلد ہم اسے آسانی مہیا کردیں گے۔(پ30، الیل: 4 تا 7)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 اور آپ رضی اللہُ عنہ کے تقویٰ میں سب سے بلند مرتبہ پر فائز ہونے کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَسَیُجَنَّبُهَا الْاَتْقَىۙ (۱۷) الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَهٗ یَتَزَكّٰىۚ (۱۸))

ترجمہ: اورعنقریب سب سے بڑے پرہیزگارکو اس آگ سے دور رکھا جائے گا۔ جو اپنا مال دیتا ہے تاکہ اسے پاکیزگی ملے۔ (پ30، الیل:17، 18) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

اور اِسی تمغہِ ”اَتقیٰ“ پانے والے کو خدا کی بارگاہ میں سب سے بڑھ کر مکرم ومحترم قرار دیا گیا، ارشاد ہوا:

(اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ(۱۳))

ترجمہ:بیشک اللہ کے یہاں تم میں زیادہ عزت والا وہ جو تم میں زیادہ پرہیزگارہے بیشک اللہ جاننے والا خبردار ہے۔(پ 26، الحجرات:13) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

خوفِ آخرت، قیام اللیل اور عبادت و ریاضت متقی کے عمومی اوصاف میں داخل ہوتے ہیں۔ صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ کے ان اوصافِ جمیلہ کی شان میں اللہ تعالیٰ نےبیان فرمایا:

(اَمَّنْ هُوَ قَانِتٌ اٰنَآءَ الَّیْلِ سَاجِدًا وَّ قَآىٕمًا یَّحْذَرُ الْاٰخِرَةَ وَ یَرْجُوْا رَحْمَةَ رَبِّهٖؕ- )

ترجمہ:کیا وہ شخص جو سجدے اور قیام کی حالت میں رات کے اوقات فرمانبرداری میں گزارتا ہے آخرت سے ڈرتا ہے اور اپنے رب کی رحمت کی امید لگا رکھتا ہے (کیا وہ نافرمانوں جیسا ہوجائے گا؟) (پ 23،الزمر: 9)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

بلکہ صدیق اکبر کا تقوی و خوفِ خدا اور رُجُوع اِلَی اللہ اس قدر شان دار ہے کہ دوسروں کو بھی آپ رضی اللہُ عنہ کی اتباع کا حکم دیا گیا ہے، چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(وَاتَّبِـعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّۚ- )

ترجمہ: اور میری طرف رجوع کرنے والے آدمی کے راستے پر چل۔ (پ 21، لقمٰن:15)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 تقوی کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کے محبوب صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی تعظیم دل میں اس قدر ہو کہ بارگاہِ نبوی کے کمالِ ادب تک پہنچا دے۔ صدیق اکبر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ اس وصف میں بھی دیگر پر فائق تھے۔ چنانچہ آپ کے حسنِ ادب کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

(اِنَّ الَّذِیْنَ یَغُضُّوْنَ اَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ امْتَحَنَ اللّٰهُ قُلُوْبَهُمْ لِلتَّقْوٰىؕ-لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ عَظِیْمٌ(۳))

ترجمہ: بیشک جولوگ اللہ کے رسول کے پاس اپنی آوازیں نیچی رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پرہیزگاری کے لیے پرکھ لیا ہے، ان کے لیے بخشش اور بڑا ثواب ہے۔( پ 26،  الحجرات:03)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

صدیقِ اکبر کی چوتھی شان، صاحبِ فضیلت اور طالبِ مغفرت ہونا:

سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہُ تعالیٰ عنہ ایک رشتہ دار کی مالی مدد کرتے تھے لیکن ایک مرتبہ آپ نے اس کی طرف سے تکلیف پہنچنے پر قسم کھالی کہ آپ اس کی آئندہ کوئی مالی مدد نہیں کریں گے۔ اس پر قرآن مجید کی یہ آیت نازل ہوئی : (وَ لَا یَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ یُّؤْتُوْۤا اُولِی الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِیْنَ وَ الْمُهٰجِرِیْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ﳚ-وَ لْیَعْفُوْا وَ لْیَصْفَحُوْاؕ-اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْؕ-وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ(۲۲))

ترجمہ :اور تم میں فضیلت والے اور (مالی) گنجائش والے یہ قسم نہ کھائیں کہ وہ رشتے داروں اور مسکینوں اور اللہ کی راہ میں ہجرت کرنے والوں کو (مال) نہیں دیں گے اور انھیں چاہیے کہ معاف کر دیں اور درگزر کریں، کیا تم اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ اللہ تمہاری بخشش فرما دے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔ (پ18،النور: 22)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

یہ آیتِ مبارکہ سنتے ہی سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نے عرض کی: کیوں نہیں! اللہ کی قسم، بے شک میں اِس چیز کو محبوب رکھتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ میری بخشش فرما دے۔ (بخاری3/65، حدیث: 4141)

صدیقِ اکبر کی پانچویں شان، اِنفاق فی سبیل اللہ (یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنا):

راہِ خدا میں مال خرچ کرنا، بارگاہِ ذوالجلال کی قربت، محبت الٰہی کی علامت، اعلیٰ درجے کی عبادت اور بندگانِ خدا کا عظیم وصف ہے۔اِس خوبی میں سیدنا صدیقِ اکبر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کا کردار، لاثانی ہے۔ مفسرین کے مطابق ذیل کی آیت آپ رضی اللہُ عنہ کی شان ہی میں نازل ہوئی:

(اَلَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً فَلَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْۚ-وَ لَا خَوْفٌ عَلَیْهِمْ وَ لَا هُمْ یَحْزَنُوْنَ(۲۷۴ؔ))

ترجمہ:وہ لوگ جو رات میں اور دن میں، پوشیدہ اور اعلانیہ اپنے مال خیرات کرتے ہیں ان کے لئے ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے۔ ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔(پ 3، البقرۃ: 274)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

 اور اس اِنفاق یعنی راہِ خدا میں خرچ کرنے میں صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ کے اخلاص کی گواہی دلوں کے بھید جاننے والی ہستی، خداوند کریم نے یوں دی ہے:

(وَ مَا لِاَحَدٍ عِنْدَهٗ مِنْ نِّعْمَةٍ تُجْزٰۤىۙ (۱۹) اِلَّا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْاَعْلٰىۚ(۲۰) وَ لَسَوْفَ یَرْضٰى۠(۲۱))

 ترجمہ:اور کسی کا اس(ابوبکر) پر کچھ احسان نہیں جس کا بدلہ دیا جانا ہو۔(وہ تو)صرف اپنے سب سے بلند شان والے رب کی رضا تلاش کرنے کے لئے (مال خرچ کرتا ہے)اور بیشک قریب ہے کہ وہ خوش ہوجائے گا۔(پ 30، الیل:19 تا 21) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

صدیقِ اکبر کی چھٹی شان،خدمت ِ مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم:

حبیبِ خدا، احمد مجتبیٰ، محمد مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ عشقِ صادق میں فنائیت اور تقاضائے وفا میں سرخ رُوئی دیکھنی ہو توسیدنا صدیق اکبر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کی ذات سے بڑھ کر کوئی ہستی نہ ملے گی۔ ہر زمان و مکان، ہر وقت و حال میں حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے غم خوار، حمایتی،اور رازدار رہے۔ہر وقت اپنی جان ومال حضور صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نصرت واِعانت کے لیے قربان کرنے کے لئے تیاررہے بلکہ قربان کرتے رہے یہاں تک کہ سفر ِ ہجرت اورغارِ ثور کی تنہائیوں میں یارِ غار نے اِس ایثار و نثار کی لازوال داستان رَقم کی جسے کارسازِ حقیقی، خداوند قدوس نے قرآن مجید میں بہت خوبصورت انداز میں یوں بیان فرمایا:

(اِلَّا تَنْصُرُوْهُ فَقَدْ نَصَرَهُ اللّٰهُ اِذْ اَخْرَجَهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا ثَانِیَ اثْنَیْنِ اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ لَا تَحْزَنْ اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَاۚ-فَاَنْزَلَ اللّٰهُ سَكِیْنَتَهٗ عَلَیْهِ وَ اَیَّدَهٗ بِجُنُوْدٍ لَّمْ تَرَوْهَا )

ترجمہ:اگر تم اس (نبی) کی مدد نہیں کرو گے تو اللہ ان کی مدد فرماچکا ہے جب کافروں نے انہیں (ان کے وطن سے) نکال دیا تھا جبکہ یہ دو میں سے دوسرے تھے، جب دونوں غار میں تھے، جب یہ اپنے ساتھی سے فرما رہے تھے غم نہ کرو، بیشک اللہ ہمارے ساتھ ہے تو اللہ نے اُس پر اپنی تسکین نازل فرمائی اور اُن لشکروں کے ساتھ اُس کی مدد فرمائی جو تم نے نہ دیکھے۔(پ 10، التوبۃ:40) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

صدیقِ اکبر کی ساتویں شان،عشقِ صادِق:

حضور جانِ دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی محبت اصلِ ایمان اور جانِ ایمان ہے۔ یہ نہ ہو تو ایمان، بے روح جسم کی مانند ہے اور بلا شبہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہُ عنہ جیسے متقی اعظم اور صدیق اکبر ہیں،ایسے ہی مصطفیٰ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے عاشقِ اکبر بھی ہیں۔عشق و محبت کے ہر اعلیٰ و پاکیزہ معیار میں آپ رضی اللہُ عنہ سب سے بلند مرتبے پر فائز نظر آتے ہیں۔ وہ حقیقی طور پر اِس آیت کے سچے مصداق تھے کہ:

(لَا تَجِدُ قَوْمًا یُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ یُوَآدُّوْنَ مَنْ حَآدَّ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ وَ لَوْ كَانُوْۤا اٰبَآءَهُمْ اَوْ اَبْنَآءَهُمْ اَوْ اِخْوَانَهُمْ اَوْ عَشِیْرَتَهُمْؕ )

ترجمہ:تم ایسے لوگوں کو نہیں پاؤ گے، جو اللہ اورآخرت کے دن پرایمان رکھتے ہوں کہ وہ ان لوگوں سے دوستی کریں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا ان کے بیٹے یاان کے بھائی یا ان کے خاندان والے ہوں۔(پ 28، المجادلۃ:22) (اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

جس ہستی کو سب سے زیادہ قرب مصطفیٰ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نصیب ہوا اور ہے، وہ حضرت صدیق اکبر رضی اللہُ تعالیٰ عنہ ہیں اورمومنوں پر بہت رحیم و شفیق، دشمنوں پر سخت،کثرتِ رکوع و سجود کے شائق، فضل و رضائے الٰہی کے طالب اور سجدوں کے نور سے منور پیشانی رکھنے والے ہیں اوریقیناً ذیل کی آیت کی عملی و مجسم تفسیر ہیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

(مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-ذٰلِكَ مَثَلُهُمْ فِی التَّوْرٰىةِ ﳝ- وَ مَثَلُهُمْ فِی الْاِنْجِیْلِ ﱠ كَزَرْعٍ اَخْرَ جَ شَطْــٴَـهٗ)

ترجمہ:محمد اللہ کے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت، آپس میں نرم دل ہیں۔ تُو انہیں رکوع کرتے ہوئے، سجدے کرتے ہوئے دیکھے گا،اللہ کا فضل و رضا چاہتے ہیں، ان کی علامت ان کے چہروں میں سجدوں کے نشان سے ہے۔یہ ان کی صفت تورات میں (مذکور) ہے اور ان کی صفت انجیل میں (مذکور) ہے۔(ان کی صفت ایسے ہے) جیسے ایک کھیتی ہو جس نے اپنی باریک سی کونپل نکالی۔(پ 26، الفتح:29)

(اس آیت کی مزید وضاحت کے لئے یہاں کلک کریں)

دعا:اللہ تعالیٰ ہمیں صدیقِ اکبر رضی اللہُ عنہ کے عالی اوصاف، بلند اخلاق،حسن اعمال اور پاکیزہ کردار کا فیضان نصیب فرمائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* (نگرانِ مجلس تحقیقات شرعیہ، دار الافتاء اہلِ سنّت، فیضان مدینہ، کراچی)


Share

Articles

Comments


Security Code