Ita'at e Mustafa

Book Name:Ita'at e Mustafa

کامیابی پانے کیلئےاپنی اوراپنے حبیب صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی اِطاعت وفرمانبرداری کاحکم دیا ہے اور ساتھ ہی یہ اِخْتیار بھی دیا ہے کہ اَحکام ِاِلٰہی پرعمل کرتے ہوئے اس کےفرمانبرار بندے بن  کر چاہیں توجنَّت  کی اَبَدی یعنی ہمیشہ باقی رہنے والی نعمتوں سے  لُطْف اُٹھائیں یا اس کی نافرمانی کرکےجہنَّم کے حَقْدار ٹھہریں۔ لہٰذادُنیاوآخرت میں کامیاب ہونے کیلئےسرکارصَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے پاکیزہ کردارکو اَپنانے ہی میں عافیت ہے،کیونکہ آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مُبارَک زِندگی ہمارے لئے بہترین نَمونَۂ عمل ہے۔ چُنانچہ

پارہ 21،سُوْرَۃ ُالْاَحْزاب کی آیت نمبر21 میں اِرْشاد ہوتا ہے ۔

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

تَرْجَمَۂ کنز العرفان:بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں  بہترین نمونہ موجود ہے۔

حکیمُ الاُمَّت حضرت مُفتی احمدیارخان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہتفسیر’’نُورُالْعِرْفان“میں اسی آیت کے تحت فرماتے ہیں:معلوم ہوا کہ حُضُور(صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کی زِندگی شریف سارے اِنسانوں کے لیے نمونہ ہے،جس میں زِندگی کا کوئی شُعْبہ باقی نہیں رہتا اوریہ بھی مطلب ہوسکتا ہےکہ رَبِّ( کریم) نے حُضُور(صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کی زِندگی شریف کو اپنی قُدرت کا نمونہ بنایا۔کاریگرنمونہ (Sample)پر اپنا سارا زورِ صَنعَت(کاریگری کا زور)صرف(خرچ)کردیتا ہے۔معلوم ہوا کہ کامیاب زِندگی وہی ہے جو اُن کے نَقْشِ قدم پر ہو،اگر ہمارا جینا،مرنا،سونا،جاگنا حُضُور(صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کے نَقشِ قدم پر ہوجائے تو یہ سارے کام عبادت بن جائیں۔(نور العرفان، پ۲۱، الاحزاب، تحت الآیۃ:۲۱، ص۶۷۱ ملخّصاً)

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                               صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد

 پیارے اسلامی بھائیو!معلوم ہواکہ نبیِّ پاک ،صاحبِ لَوْلاک صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حیاتِ مُبارَکہ ہمارے لئے مَشْعلِ راہ ہے، لہٰذامُسلمان اور سچے غُلام ہونے کے ناطے ہم پر لازِم یہ ہے