Ita'at e Mustafa

Book Name:Ita'at e Mustafa

میں مَوْجُود  ہوپیش کرے)اور3 دن کے بعد صَدَقہ ہے۔(بخاری،کتاب الادب،باب اکرام الضیف...الخ، ۴/۱۳۶، حدیث:۶۱۳۵)

لوگوں کے مَقام ومرتبے کا خیال کرتے ہوئے یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیےکہ اگرمہمان کوئی نیک پرہیز گاریاعالمِ دین یا پیرومُرشدہوں تو ان کی شان وعظمت کے مُطابق ان کی مہمان نوازی کی جائے۔اگر  مَذہبی شخصیّت کوکسی  تقریب میں بُلانا ہوتوسوچ سمجھ کر دعوت دی جائے کہ یہ دعوت  ان کی شان کے لائق بھی ہے یا نہیں ، مثلاً شادی وغیرہ کی تقریب میں ناچ گانا ،عورتوں کا بے پردہ پھرنا  اگرچہ سب کیلئے حرام ہی ہے مگر ایک عالمِ دین یا مذہبی شخص کو دعوت دینا ،اس کے مرتبے کی سخت توہین ہے ۔اس لیے ہمیں چاہیے کہ مہمانوں کے مَراتب کے مُطابق ان کی تعظیم و توقیر کریں اور ہر مُسَلمان کے ساتھ اچھا سُلوک کریں کیونکہ مسلمانوں کے ساتھ اچھا سُلوک کرنےکی برکت سے جہاں آپس کی مَحَبَّتوں کے چراغ روشن ہوتے ہیں،وہیں سُنَّت پر عمل کے ساتھ ساتھ دونوں جہانوں کی بھلائیاں بھی نصیب ہوتی ہیں۔ 

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                                                               صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد

 پیارے اسلامی  بھائیو!جس طرح صحابَۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانرسولِ اکرم،نورِ مجسم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَسےمَحَبَّت کرتے اور آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکے فرامین پر دل جان سے عمل کیا کرتے تھے،اسی طرح صحابیات میں بھی اطاعتِ رسول کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا اوروہ بھی آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی مَحَبَّت میں آپ کی زَبانِ اَقْدس  سے نکلے ہوئے فرامین پر لازِمی عمل کیا کرتی تھیں،چنانچہ

صحابیات کا اطاعتِ مُصْطَفٰے کا مقدس جذبہ

منقول ہے کہ ایک بارنبیِ کریم صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَمسجد سے باہر تشریف لا ئے تو  دیکھاکہ راستے میں مرد وعورتیں مل جل کر چل رہے ہیں۔آپ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے عورتوں سے مُخاطب ہوکر