Book Name:Ita'at e Mustafa
محفوظ رکھے،يا رشتہ داروں سے اچھا سُلُوک کرے تو اللہ پاک اس کے لئے عورت ميں برکت دے گااور عورت کے لئے مَرد ميں برکت دے گا۔ (المعجم الاوسط، ۲/۱۸، حديث۲۳۴۲)
لہٰذاہمیں بھی مال و دولت پانے اوردُنیوی فوائدحاصل کرنے کے بجائے دِینداری اور پرہیزگاری کوپیشِ نظر رکھتے ہوئے دِینی اعتبار سے اچھے لوگوں میں شادی کرنی چاہیےاوراپنی دُنیا وآخرت بہتر بنانے کیلئے تَمام مُعاملات میں نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِطاعت کرنی چاہیے،آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِطاعت وفرمانبرداری کا دَرس دیتے ہوئے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے زَمانۂ جاہلیت کی وہ تمام فُضول رَسْمیں ختم فرمادیں،جن پر عرصہ درا ز سے عمل جاری تھا۔
کاش!صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے صدقے میں نبیوں کے سلطان رحمتِ عالمیان صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِطاعت کا جذبہ نصیب ہوجائے، زبانی جمع خرچ سے نکل کر کاش!ہم عملی طورپر سچّے عاشقِ رسول بن جائیں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارےاسلامی بھائیو!نبیِّ کریم ،روفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا حکم ماننا اِطاعتِ مُصْطَفٰےکہلاتاہے۔اطاعت میں ہروہ کام شامل ہے،جن سے بچنے کا حکم ہے اور وہ کام بھی داخل ہیں جنہیں کرنے کا حکم اِرْشادفرمایا ہے۔جس طرح نماز پڑھنا، زکوٰۃ دینا، روزہ رکھنا اوردیگر نیک کام ضروری ہیں،اسی طرح جُھوٹ،غیبت،چُغلی،موسیقی وغیرہ گُناہوں سے بچنا بھی لازِم ہے۔ مگر افسوس! آج مُسلمانوں نےدِین سے دُوری کےباعث اللہ پاک اوراس کے رسُول صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی اِطاعت وفرمانبرداری کو چھوڑدیاہے،شاید اسی وجہ سے مُعاشرے میں گُناہ عام ہوتے جارہے ہیں۔ جس طرف نظر اُٹھائیے بے عملی ،بے راہ روی اور سُنَّتوں کی خِلاف وَرزی کے دل سَوز نَظارے ہیں۔نمازیں