Ita'at e Mustafa

Book Name:Ita'at e Mustafa

رَسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمان ہے:”اَنْزِلُواالنَّاسَ مَنَازِلَھُمْ“ہر شخص سے اس کے دَرَجے  کے مُطابق برتاؤ کرو۔(ابوداود، کتاب الادب ،باب فی تنزیل الناس منازلھم، ۴/۳۴۳، الحدیث: ۴۸۴۲)

مہمان نوازی کی اقسام اور ان کے تقاضے:

 پیارے اسلامی بھائیو! اُمُّ الْمُومنین حضرت  عائشہرَضِیَ اللہُ  عَنْہا کے عمل سے معلوم ہوا کہ لوگوں کے مَقام ومرتبہ کا لحاظ کرتے ہوئے ان کی مہمان نَوازی،اورتعظیم و توقیر کرنی چاہیے۔ ہر مہمان کے ساتھ اس کی حیثیّت  کے مُطابق سُلُوک کرنا چاہیے ،مہمانوں میں کچھ تو وہ ہوتے ہیں جو گھنٹے دو گھنٹے  کیلئے آتے ہیں اورچائے،پانی  پینے کے بعد چلے جاتے ہیں اوربعض کیلئے کھانے پینے کا خاص اِہْتمام ضروری ہوتا ہے، بعض وہ ہوتے ہیں جنہیں ہم شادی بیاہ اورعقیقے وغیرہ کسی تقریب میں دعوت دے کرخُودبُلاتے ہیں،اس میں امیرو غریب کا فرق کیے بغیر  کِھلانے پِلانے اور بٹھانے میں سب کیلئے برابرانتظام کرنا چاہیے،ایسانہ ہوکہ امیروکبیر لوگ تو شاہانہ اَنداز میں بیٹھے خُوب اَنْواع واَقْسام کے عُمدہ کھانوں  سے لُطف اُٹھائیں،مگرغریب اور درمیانے لوگوں کو عام کھانے  کھلائے جائیں، ایساہر گز نہیں کرنا چاہیے کہ اس سےمُسلمانوں کی دل آزاری ہوتی  ہے۔حدیثِ پاک میں ہے: بُرا کھانا اس ولیمے کاکھاناہے،جس میں مال دار لوگ بُلائے جاتے ہیں اور فُقَرا چھوڑ دئیے جاتے ہیں۔ (بخاری، کتاب النکاح، باب من ترک الدعوۃ...الخ، حدیث: ۵۱۷۷،ج۳،ص۴۵۵)بعض مہمان بہن ،بھائی یا قریبی رشتہ دار  ہوتے ہیں،جو کچھ  دنوں کیلئے رہنے  آتے ہیں ،ان کی مہمان نوازی بھی کرنی چاہیے ۔

حدیثِ پاک میں ہے :جوشخص اللہ پاک اور  قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے، وہ مہمان کی تعظیم و توقیر کرے،ایک دن رات اُس کا جائزہ ہے(یعنی ایک دن اس کی پوری مہمان نوازی کرے،اپنی طاقت کے مطابق اس کے لیےبڑے اہتمام اور محنت سے کھانا تیار کروائے۔)مہمانی3دن ہے(یعنی ایک دن کے بعدجو گھر