Book Name:Ita'at e Mustafa
چھوڑنا،گالیاں دینا،تہمتیں لگانا،بدگمانیاں کرنا،غیبتیں کرنا،لوگوں کے عیب جاننے کی کوشش میں رہنا،معلوم ہونے پران کے عیبوں کواُچھالنا،بات بات پہ جھوٹ بولنا،جھوٹے وعدے کرنا، کسی کا مال ناحق کھانا،فلموں ڈراموں،گانے باجوں کے نشے میں گُم رہنا،سرِعام سُود ورِشوت کا لَیْن دَیْن کرنا، ماں باپ کی نافرمانی کرنا، غُرُوروتکبر،حَسَدورِیا کاری اوربُغض وکِیْنہ جیسے بے شُمارگُناہ عام ہیں۔یاد رکھئے!ایک دن مَوْت ہمارا زندگی کا رشتہ کاٹ کرہمارے آراستہ وپیراستہ کمروں کے نَرْم وآرام دِہ گدیلوں سے اُٹھا کرقبر کی مَٹّی پرسُلادےگی،پھر پچھتانے سے کچھ ہاتھ نہ آئے گا۔لہٰذا وقت کو غنیمت جانتے ہوئے گُناہوں سے سچی تَوْبہ کیجئےاور نیکیوں میں وَقْت گُزارئیے ۔آئیے! اِطاعتِ مُصطفٰے کا جَذبہ پیدا کرنےکے لئے8 فرامینِ مُصْطَفٰےصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سُنتے ہیں:
فضائل پرمُشتمل 8فرامینِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ:
(1)اللہ پاک کے نزدیک سب سےزِیادہ پسندیدہ کام،نماز کو اس کے وَقْت پر اَداکرنااور والِدَین سے نیکی کرنا ہے۔ (الجامع الصغیر:۱/۱۸،حدیث:۱۹۶)
(2)اللہ پاک کے نزدیک فرائض کے بعد سب سےزِیادہ پسندیدہ کام کسی اسلامی بھائی کے دل میں خُوشی داخل کرنا ہے۔ (الجامع الصغیر:۱/۱۹،حدیث:۲۰۰)
(3)اللہ پاک کے نزدیک سب سے پسندیدہ گھر وہ ہے، جس میں یتیم کو عزّت دی جاتی ہو۔ (الجامع الصغیر:۱/۲۰،حدیث:۲۱۹)
(4)کوئی اپنےمُسَلْمان بھائی کو اس سے زیادہ اَفْضل فائدہ نہیں دے سکتا کہ اسے کوئی اچھی بات پہنچے تو وہ اپنے بھائی کو پہنچا دے۔(جامع بیان العلم و فضلہ، باب دعاء رسول اللہ لمستمع العلم و حافظہ و مبلغہ، حدیث :۱۸۵، ص۶۲)
(5)اچھی بات کے علاوہ اپنی زبان کو روکے رکھو،اس طرح تم شیطان پر غالب آجاؤگے۔(الترغیب والترھیب ،کتاب الادب وغیرہ، باب الترغیب فی الصمت ...الخ ، رقم ۲۹، ج۳ ، ص ۳۴۱)