Walidain e Mustafa

Book Name:Walidain e Mustafa

آپ  نہایت پاکیزہ تھیں۔([1])

حضرت عبدُ اللہ کی وفات

جب حمل شریف کو دو مہینے پورے ہو گئے تو حضرتِ  عبدُ المطلب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ نے حضرتِ  عبدُاللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کو کھجوریں لینے کے لئے مدینۂ  پاک بھیجا یا تجارت کے لئے ملکِ شام روانہ کیا۔ وہاں سے واپس لوٹتے ہوئے مدینۂ پاک  میں اپنے والد (یعنی حضرتِ  عبدُ المُطّلب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ)کے ننھیال ”بنو عَدی بن نَجار“میں ایک ماہ بیمار رہ کر 25 برس کی عمر میں حضرتِ  عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ   وفات       پا کر”دارِ نابِغَہ“میں دفن ہوئے اور یہی آپ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ کا مزار شریف بنا۔([2])

بی بی آمِنہ کی وفات

اللہپاک کے پیارے نبی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی جب عمرِ مُبارَک 5یا 6 برس ہوئی توآپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امّی جان حضرت بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا آپ  کو ساتھ لے کر مدینۂ پاک میں آپ  کے دادا جان حضرتِ  عبدُالمُطّلب رَضِیَ اللہُ عَنْہُکے ننہال بنو عَدِی بن نجَّار میں ملنے گئیں، آپ کی خادِمہ اُمِّ اَیمن رَضِیَ اللہُ عَنْہَا بھی ساتھ تھیں، جب واپس آئیں تو راستے میں مَقامِ اَبواء میں حضرت بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا اِنتقال فرما گئیں اور وہیں دَفن ہوئیں۔

وفات کے وقت بی بی آمِنہ نے اَشعار پڑھے


 

 



[1]...مواہب اللدنیہ،جلد:1، صفحہ:60۔

[2]…… مدارج النبوت،قسم دوم، باب اول،۱۲-۱۴ ملتقطاً ۔