Book Name:Walidain e Mustafa
بوقتِ اِنتقال حضرت بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْھَا نے اپنے پیارے بیٹے، دوجہاں کے سردار، محمدِ مُصْطَفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی طرف نگاہ ِ مَحبت سے دیکھا اور چند عربی اَشعار پڑھے:(جن کا تَرجمہ کچھ یوں ہے:) اے سُتھرے لڑکے!اللہ پاک تجھ میں بَرکت رکھے۔ اے اُن کے بیٹے!جنہوں نے بڑے اِنعام والے بادشاہ اللہ پاک کی مدد سے موت کے گھیرے سے نَجات پائی،(اے میرے پیارے بیٹے!)جو کچھ میں نے خواب میں دیکھا ہے اگر وہ ٹھیک ہے تو تُو عزّت و جَلال والے رَبِّ کریم کی طرف سے مخلوق کی طرف پیغمبر بنایا جائے گا۔ تُو حَرم و غَیرِحَرم ہر علاقے کی طرف اِسلام کے لئے بھیجا جائے گا جو تیرے نِکوکار والد (اللہپاک کے پیارے نبی حضرتِ ) اِبراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا دِین ہے،تومیں اللہ پاک کی قسم دے کر تجھے غیرِ خدا سے منع کرتی ہوں کہ قوموں کے ساتھ ان کی دوستی نہ کرنا۔([1])
دُنیا مَرے گی مگر میں کبھی نہیں مَروں گی!
حکیمُ الاُمّت حضرتِ مفتی احمدیارخان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ فرماتے ہیں:حضرت بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی اِس بیماری میں رسولِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم آپ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کا سَر مُبارَک دَباتے تھے اور روتے جاتے تھے،حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے آنسو آپ(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی امّی جان)کے چہرے پر گِرے تو آنکھ کھولی اور اپنے دوپٹّے سے آپ(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کے آنسو پونچھ کر بولیں:”دنیا مَرے گی مگر میں کبھی نہیں مَروں گی کیونکہ میں تم جیسا بیٹا چھوڑ رہی ہوں،جس کے سبب مشرق و مغرب