Walidain e Mustafa

Book Name:Walidain e Mustafa

سے منتقل ہو کر حضرت بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے رَحمِ مُبارَک  میں تشریف لے آیا۔

حضرت آمنہ رَضِیَ اللہ عَنْہَا

”بنوزُہرہ“ قبیلہ قریش کی ایک شاخ ہے،  حضرت آمنہ بنت وَہَب رَضِیَ اللہ عَنْہَا جن کا تَعَلُّقْ بنوزُہرہ سے تھا، حسب ونسب اور مقام ومرتبے کے اعتبار سے اس وَقْت کی تمام خواتین میں افضل واعلیٰ تھیں، اللہ پاک نے آپ کو ظاہِری حُسْن وجمال کے ساتھ ساتھ اعلیٰ اَوْصاف وکردار اور باطنی کمالات سے بھی خوب نوازا تھا، عقل مندی ودانائی کے سبب آپ کو ”حَکِیْمَہ“ کہہ کر پُکارا جاتا تھا۔([1])

زمانہ جاہلیت میں بھی پردے کا اہتمام

امام جلال الدین سیوطی رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ جو صرف نامور مصنف ، بلند پایہ مفسر ، محدث ، فَقیہ، شاعر،مؤرّخ اورماہر لغت ہی نہ تھے بلکہ اپنے زمانے کے مجدِّد اور بہت بڑے عاشقِ رسول بھی تھے۔اس کااندازہ اس بات سے لگایاجاسکتاہے کہ آپ رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ کو 75مرتبہ حالتِ بیداری میں پیارے آقا مدینے والے مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی زیارت نصیب ہوئی۔اور آپ نے ایک ایسی تفسیر لکھی ہے جس میں دس ہزار سے زائد احادیث نقل کی ہیں اور آپ کی کتب کی تعداد 200 سے زائد ہے اور آپ نے والدینِ مصطفےٰ کے ایمان پر 6 رسائل تصنیف فرمائے ہیں آپ رَحْمَۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : حضرت سَیِّدَہ آمنہ رَضِیَ اللہ عَنْہَا پاک دامن، پردہ دار اور گھر کی چار دیواری


 

 



[1]...تاریخ الخمیس، الطلیعۃ الثالثۃ، ذکر تزوج عبد اللہ آمنہ، جلد:1، صفحہ:335بتغیر قلیل۔