Walidain e Mustafa

Book Name:Walidain e Mustafa

سیدِدوعالم شاہِ اولادِ آدم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: کبھی لوگ دوگروہ نہ ہوئے مگر مجھے اللہ پاک نے بہتر گروہ میں کیا تو میں اپنے ماں باپ سے ایسا پیداہوا کہ زمانہ ٔجاہلیت کی کوئی بات مجھ تک نہ پہنچی اورمیں خالص نکاح صحیح سے پیداہوا آدم سے لے کر اپنے والدین تک ، تو میرانفس کریم تم سب سے افضل اورمیرے باپ تم سب کےوالدین  سے بہتر۔([1])

نِکاح ہو گیا

(پیارے اسلامی بھائیو! جب جنگل میں والدِ مصطفےٰ حضرت عبد اللہرَضِیَ اللہُ عَنْہُ کی غیبی سواروں نے  جان بچائی اس وقت حضرت بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کے والدِ محترم) حضرت وَہب بِن مَناف رَضِیَ اللہُ عَنْہُ بھی اُس دِن جنگل میں تھے اور اُنہوں نے اپنی آنکھوں سے یہ سب کچھ دیکھا  تو   اُن کو  حضرتِ   عبدُ  اللہ  رَضِیَ اللہُ عَنْہُسے بے اِنتہا محبت و عقیدت پیدا ہو  گئی، گھر آ کر یہ عزم کرلیا کہ میں اپنی نُورِ نظر حضرت آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا کی شادی حضرت عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ ہی سے کروں گا۔چنانچہ اپنی اِس دِلی تمنا کو اپنے چند دوستوں کے ذریعے اُنہوں نے حضرتِ  عبدُ المُطّلب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ تک پہنچا دیا۔خُدا کی شان کہ حضرتِ  عبدُ المُطّلب رَضِیَ اللہُ عَنْہُ اپنے نورِ نظر حضرتِ  عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ  کے لئے جیسی دُلہن کی تلاش میں تھے،وہ ساری خوبیاں حضرت بی بی  آمِنہ بنتِ وَہب رَضِیَ اللہُ عَنْہَا میں موجود تھیں۔چنانچہ 24 سال کی عمر میں حضرتِ  عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ کا حضرت بی بی آمِنہ رَضِیَ اللہُ عَنْہَا سے نکاح ہو گیا اور نُورِ محمدی حضرتِ   عبدُ اللہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُ


 

 



[1]...فتاویٰ رضویہ، جلد:30، صفحہ:282۔