Book Name:Ikhtiyarat e Mustafa
کہا جائے گا : يَا مُحَمَّدُ اِرْفَعْ رَاْسَكَ، وَقُلْ يُسْمَعْ لَكَ، وَسَلْ تُعْطَ، وَاشْفَعْ تُشَفَّعْ یعنی اے محمد (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) !اپنا سر اٹھائیے، کہئے سُنی جائے گی،مانگئے عطا کِیا جائےگا، شفاعت کیجئے، قبول کی جائے گی۔ میں عَرْض کروں گا: يَا رَبِّ، أُمَّتِيْ أُمَّتِيْ یَارَبّ ! میری اُمَّت، میری اُمَّت۔اللہ پاک فرمائے گا: جائیے اور جس کے دل میں رائی کے دانے سے بھی کمتر ایمان ہو، اُسے بھی آگ سے نکال لیجئے،چُنانچہ میں جاؤں گا اور ایسا ہی کروں گا۔ ([1])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمّد
حکیمُ الاُمَّت مفتی اَحْمد یار خان رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ خیال رہے کہ ہم بذاتِ خُود رَبّ تعالیٰ کی حَمْد نہیں کرسکتے، جب تک کہ ہم کو حضور نہ سکھائیں، ہماری حَمْد حضور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے سکھانے سے ہے اور حضور کی حَمْد رَبّ تعالیٰ کے سکھانے سےاور رَبّ کی جیسی حَمْد،حضورِ اَنْوَر(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) نے کی ہے اور کریں گے ،مخلوق میں کسی نے ایسی حَمْد نہ کی۔ اسی لئے آپ(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کا نام اَحمد ہے (یعنی بہت زیادہ حَمْد و تعریف بیان کرنےوالا۔مزید فرماتےہیں کہ)اُس سجدہ میں حضورِ اَنْور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) رَبّ(تعالی) کی بے مثال حَمْد کریں گے اور مقامِ محمود پر رَبّ تعالیٰ، حضورِ اَنْور کی ایسی حَمْد کرے گا جو کوئی نہ کرسکا ہوگا، اِس لئے حضورِ اَنْور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ)کا نام ”محمد“ ہے (یعنی جس کی بہت زیادہ حَمْد و تعریف بیان کی گئی)۔ حضور صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ گنہگاروں کو نکالنے کیلئے دوزخ میں تشریف لے جائیں گے، جس سے پتہ لگا کہ حضور ہم گنہگاروں کی خاطر اَدْنیٰ (یعنی معمولی)جگہ پر تشریف لے جائیں گے۔اگر آج میلاد شریف یا مَجْلسِ ذِکْر میں حضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ) تشریف لائیں ،تو اُن کے کرم سے بعید (یعنی ناممکن)نہیں، اِس سے اُن کی شان نہیں گھٹتی ،ہماری اور ہمارے گھروں کی شان بڑھ جاتی ہے۔([2])