Khai Walon Ka Waqia

Book Name:Khai Walon Ka Waqia

پانی میں ڈبو دینے کی کوشش کی، وہ بھی ناکام رہی، آخر ان وَلِیِّ کامِل نے خود ہی کہا: اے بادشاہ! اگر تم مجھے شہید ہی کرنا چاہتے ہو تو اس کا ایک طریقہ ہے، ایک کھلے میدان میں سب لوگوں کو جمع کرو! مجھے کھجور کے تنے کے ساتھ باندھ دو اور بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَام کہہ کر مجھے تِیر مارو!

بادشاہ یہ طریقہ سُن کر بڑا خوش ہوا، فوراً لوگوں کو جمع کیا گیا، ایک کھلے میدان میں کھجور کا تنا لگا کر اس کے ساتھ وَلِیُّ اللہ کو باندھ دیا گیا، اب بادشاہ نے تِیر کمان میں ڈالا، اسے کھینچا اور کہا: بِسْمِ اللہِ رَبِّ الْغُلَام اللہ پاک کے نام سے جو اس نوجوان  کا رَبّ  ہے۔یہ کہہ کر بادشاہ نے تیر چلایا،تِیر ان وَلِیِ کامِل کی کنپٹی پر لگا اور اُن کی رُوح پرواز کر گئی۔

جب لوگوں نے یہ ماجرا دیکھا کہ وہ بادشاہ جو خُود کو خُدا سمجھتا ہے، اس کی ساری کوششیں ناکام ہو گئیں،آخِر اس نوجوان کے رَبّ کا نام ہی کام آیا تو وہ سمجھ گئے کہ سچّا خُدا یہ بادشاہ نہیں بلکہ اس نوجوان کا رَبّ ہے، چنانچہ سب نے کلمہ پڑھا اور دِینِ حق کے پیروکار ہو گئے۔

اب تو بادشاہ کو بہت ہی غُصَّہ آیا،  اس کے دعوئ خُدائی کا بھانڈا پُھوٹ چکا تھا، لوگ اس  کو چھوڑ کر اللہ واحِد و یکتا،ایک خُدائے حقیقی پر ایمان لا چکے تھے، لہٰذا بادشاہ نے غُصّے سے بپھر کر حکم دیا: گلیوں کے کناروں پر گڑھے کھود کر ان میں آگ جلا دی جائے، بادشاہ کا حکم پُورا کیا گیا، اب بادشاہ نے حکم جاری کیا کہ جوشخص اپنے دِین سے پِھر کر مجھے خُدا نہ مانے، اسے آگ میں ڈال دیا جائے۔ بادشاہ کا یہ حکم بھی پُورا کیا گیا، لوگوں کو اس آگ میں ڈالا جانے لگا، یہاں تک کہ ایک عورت آئی، اس کی گود میں ایک ننھا بچہ تھا، اُس صاحِبِ ایمان خاتُون کو اپنا تو کوئی خطرہ نہ تھا، البتہ ماں کی مامتا نے جوش مارا اور وہ ماں اپنے بچے کو دیکھ کر ذرا جھجکی