Khai Walon Ka Waqia

Book Name:Khai Walon Ka Waqia

حالات میں ہمیں چاہئے کہ صبر سے کام لیں اور سب سے اَہَم ذِمَّہ داری  جو ایسے وقت  میں ہم پر عائِد ہوتی ہے، وہ یہ ہے کہ ہم اپنے ایمان کی بھرپُور حفاظت کریں۔ ہم نے کھائی والوں کا قرآنی واقعہ سُنا، اس میں ذرا غور کیجئے! بادشاہ جو خُدائی کا دعویٰ کئے ہوئے تھا، وہ سخت ظالِم تھا، اس نے اَہْلِ ایمان پر ظلم ڈھایا، انہیں زندہ ہی آگ میں ڈال دیا، قربان جائیے! ان پختہ ایمان لوگوں نے آگ میں جلنا، جان دینا تو منظور کر لیا مگر اپنے ایمان سے ذرّہ برابر بھی پیچھے نہیں ہٹے، یہاں تک کہ ایک ماں، اپنے ننھے بچے کو گود میں اُٹھائے ہوئے، بچّے سمیت آگ میں ڈال دی گئی، اس نے بھی موت کو تو گلے لگا لیا مگر اپنے ایمان کا سودا نہیں کیا۔

 یہ بڑی کمال کی بات ہے، بڑی ہمّت اور حوصلے کی بات ہے۔اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ایک بندۂ مؤمن اپنے ایمان پر ہمیشہ ثابِت قدم رہتا ہے، تکلیفوں اور مصیبتوں میں گھبرا کر ڈَانَواں ڈَول نہیں ہوتا، اس کے دِل میں شک نہیں آتا بلکہ وہ اپنے ایمان پر، اپنے  عقیدے پر، اللہ پاک پر توکل اور بھروسے پر پختہ ہی رہتا ہے، اسے پھولوں کا ہار ملے یا تلوار کا تیز وار ، پانی میں غرق کیا جائے یا آگ کے شعلوں میں جھونک دیا جائے، ہر حال میں، ہر صُورت میں استقامت کا پہاڑ بن کر کھڑا رہتا ہے۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                               صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

(2):تکلیف مت دیجئے!

پیارے اسلامی بھائیو!ہم نے کھائی والوں کا واقعہ سُنا،اس قرآنی واقعہ سے ایک اور اَہَم بات جو ہمیں سیکھنے کو ملتی ہے،وہ اللہ پاک نے قرآنِ کریم ہی میں ذِکْر فرمائی ہے، ارشاد ہوتا ہے: