Book Name:Teen Dost
ایک مرتبہ کا ذِکْر ہے کہ اپنے وقت کے بہت بڑے امام، ولئ کامِل، عالِمِ باعمل حضرت امام حسن بصری رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ ایک جنازے میں شریک ہوئے،میّت(Dead Body) کو دَفْن کر لینے کے بعد آپ نے ایک شخص سے فرمایا:آپ کا کیا خیال ہے؟یہ شخص (جسے ابھی ہم نے دفن کِیَا ہے کیا یہ) دُنیا میں واپس آنے، زیادہ سے زیادہ نیک اَعْمال کرنے اور اپنے گُنَاہوں سے توبہ کرنے کی خواہش نہیں رکھتا ہو گا؟ اس شخص نے کہا: ہاں! ضرور یہ اس کی خواہش رکھتا ہو گا۔ امام حسن بصری رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ نے فرمایا:پھر ہمارا کیا حال ہے؟ ہم اس میّت کی طرح کیوں نہیں ہو جاتے (یعنی ہمارے پاس ابھی مہلت ہے، ہم دُنیا میں موجود ہیں پھر ہم نیکیوں کی طرف کیوں نہیں بڑھتے، گُنَاہوں سے توبہ کیوں نہیں کر لیتے؟) یہ فرما کر امام حسن بصری رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ چل پڑے، آپ کہتے جاتے تھے: اگر دِل زِندہ ہو تو ان جنازوں سے بڑھ کر کیا نصیحت ہو گی...!([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک حقیقت (Reality)ہے،مرنے کے بعد نیکیاں ہی کام آئیں گی *ہماری گاڑی *بنگلہ *بینک بیلنس *مال و دولت کیلئے ہماری بھاگ دوڑ * ہماری بڑی بڑی ڈگریاں *اعلیٰ کارکردگی کے میڈل، یہ سب کچھ دُنیا ہی کا ہے، دُنیا ہی میں رہ جائے گا، قبر میں صِرْف ہم اور ہمارے ساتھ ہمارے اَعْمال جائیں گے ، اس کے سِوا کوئی ہمارے ساتھ نہیں جائے گا۔ حدیثِ پاک میں ہے: میّت کے ساتھ 3 چیزیں جاتی ہیں، 2واپس لوٹ