Book Name:Teen Dost
گھر میں آنا ہے (لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اس گھر کے لئے ابھی سے تیاری کر لو!) ۔ ([1])
دُنیا میں ایسے رہو جیسے مُسَافِر...!!
اے عاشقان رسول! یہ خیال ہرگز مت کیجئے!کہ ابھی بہت وقت باقی ہے، ابھی تو میں جوان ہوں،پِھر بڑھاپا آئے گا، اس کے بعد کہیں موت کی باری آئے گی...!! یہ محض ایک دھوکا ہے، ایک سُہاناخواب ہے،جو پُورا ہو سکےگا یا نہیں، ہم نہیں جانتے۔ لہٰذا عقل مند وہی ہے جو ہر وقت موت کے لئے تیار ہی رہتا ہے۔ صحابی اِبْنِ صحابی حضرت عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ عنہما فرماتے ہیں:اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ ُعَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے ایک دِن مجھے (کندھے سے) پکڑ کر فرمایا:اے عبد اللہ بن عمر! دُنیا میں ایسے رہو جیسے اجنبی ہو یا ایسے جیسے مُسَافِر ہو اور اپنے آپ کو مُرْدوں میں شُمار کیا کرو...!!([2])
دُنیوی فِکْریں چھوڑو! آخرت کے لئے فارغ ہو جاؤ!
صحابئ رسول حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ عنہ سے روایت ہے، اللہ پاک کے آخری نبی، رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہ ُعَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے پارہ:25، سورۂ شُوریٰ کی یہ آیت تِلاوت فرمائی:
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖۚ-وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ(۲۰) (پارہ:25 ،الشوریٰ :20)
تَرجَمہ کَنْزُ الْعِرْفان:جو آخرت کی کھیتی چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں اضافہ کر دیتے ہیں اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے توہم اسے اس میں سے کچھ دیدیتے ہیں اور آخرت میں اس کا کچھ حصہ نہیں ۔