Book Name:Teen Dost
اس آیت کے تحت عُلَمائے کرام رَحمۃُ اللہِ علیہم فرماتے ہیں: ہمارے اَعْمال ہماری قبر کا بستر ہیں، قبر میں کوئی دُنیوی بستر نہیں ہے، وہاں کا بستر اور تکیہ ہمارے اَعْمال ہی ہیں،چاہے وہ اچھے ہوں یا بُرے۔ ([1])
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
حضرت یزید رَقَاشِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ فرماتے ہیں: مجھے یہ بات پہنچی ہے کہ جب میت کو قبر میں رکھا جاتا ہے تو اس کے اَعْمال اسے گھیر لیتے ہیں، پِھر اللہ پاک اُن اعمال کو بولنے کی طاقت (Speaking Power)عطا فرماتا ہے۔وہ اَعْمال بول کرکہتے ہیں:اے قبر میں تنہا رہ جانے والے شخص! تیرے سب دوست اور اَہْل و عیال پیچھے رہ گئے، آج تمہارے دوست صِرْف ہم ہی ہیں۔ یہ کہہ کرحضرت یزیدرَقَاشِی رَحمۃُ اللہِ عَلَیْہ رونے لگے اور فرمایا: خوشخبری ہے اس کے لئے جس کاقبر کا ساتھی نیک ہو اورہلاکت ہے اس کے لئے جس کاقبر کا ساتھی اس کے لئے وبال بن جائے...!! ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ اَصْل حقیقت ہے، ہمارے ذِہنوں میں بہت سارے مَنْصوبے (Plans) ہوں گے، ہمارے دِلوں میں بہت سارے خَواب ہوں گے، ہم روزانہ اپنے