اسلام اور محکوم طبقے(قسط:02)

آخر درست کیا ہے ؟

اسلام اور محکوم طبقے ( قسط : 02 )

*مفتی محمد قاسم عطّاری

ماہنامہ فیضان مدینہ جون2023

تیسرا طبقہ ، عورت

مرد و عورت میں تقابل کریں تو ظاہر ہے کہ فطری اور طبعی طور پر عورت کمزور اور مرد طاقتور ہے۔ اس حقیقت کی طرف توجہ کے بعد اسلامی تعلیمات پڑھیں تو معلوم ہوگا کہ اسلام کس طرح کمزور عورت کا حمایتی اور مددگار ہے۔ قرآن و حدیث میں جگہ جگہ مرد کو عورت پر ظلم وزیادتی کرنے ، سَتانے اور تکلیف دینے سے سختی کے ساتھ منع کیا اور عورتوں کے ساتھ نرم رویہ ، شفقت والا انداز اور بہترین سلوک کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کے علاوہ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردوں کے مقابلے میں عورتوں کو شرعی احکام میں رخصتیں اور رعایتیں بھی زیادہ دی گئی ہیں چنانچہ عورت پر جمعہ اور جماعت لازم نہیں ، جبکہ مرد پر لازم ہے۔عورت پر حج کی ادائیگی لازم نہیں جب تک اس کے ساتھ محافظ محرم نہ ہو جبکہ مرد کے لئے کسی محافظ کی شرط نہیں۔ عورت کو ماہواری کے ایام اور بچے کی پیدائش کے بعد ایک مخصوص مدت تک نماز معاف ہے جبکہ مردوں کو زندگی میں کبھی بھی نماز کی معافی نہیں۔ یونہی مرد پر لازم ہے کہ کمائی ، محنت کرکے بیوی کے اخراجات اٹھائے جبکہ بیوی پر ایسا کوئی حکم نہیں۔

چوتھا طبقہ ، بیوی

شوہر اور بیوی میں تقابل کریں تو بیوی بہرحال کمزور حیثیت کی حامل ہوتی ہے۔ پوری دنیا میں شوہر کا بیوی پر حکم چلتاہے اور اسلام میں بھی بیوی شرعی حدود میں رہتے ہوئے شوہر کے حکم کی پابند ہے ، نیز مردکا بیوی کے ساتھ زندگی کا طویل حصہ گزرتا ہے ، جس میں عورت کی حق تلفی ، زیادتی ، دل آزاری اور اِس طرح کی درجنوں چیزوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ، لہٰذا بیکسوں کے حامی ، نبیِّ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے بیوی کے حقوق ادا کرنے ، اس کے اخراجات اٹھانے ، مار پیٹ سے اجتناب کرنے ، اسے عزت دینے ، اس کی تذلیل و تحقیر سے بچنے ، دوسرے لوگوں سے زیادہ بہترسلوک بیوی کے ساتھ کرنے اورپوری زندگی حسنِ معاشرت کے ساتھ گزارنے کے تاکیدی احکام بار بار ارشاد فرمائے۔ مثلاً فرمایا : تم میں سے سب سے بہترین وہ ہے کہ جو اپنی بیویوں اور بیٹیوں کے ساتھ بہتر ہے۔  ( شعب الایمان ، 6 / 415 ، حدیث : 8720 )  ایک جگہ فرمایا : تم میں سے بہتروہ ہے کہ جو اپنے گھر والوں کے ساتھ بہتر ہے۔ ( ترمذی ، 4 / 475 ، حدیث : 3921 )  پھر مزید تلقین بلکہ وصیت کی یاددہانی کرواتے ہوئے فرمایا : عورتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی وصیت یاد رکھو۔ ( بخاری ، 3 / 457 ، حدیث : 5186 )  بیوی کا خیال رکھنے ، محبت سے پیش آنے اور اُلفت کا مظاہرہ کرنے کے متعلق فرمایا : بے شک تم جوکچھ بھی اللہ عزوجل کی رضا کے لئے خرچ کرو گے ، اس کا ثواب پاؤ گے ، یہاں تک کہ تم جولقمہ اپنی بیوی کے منہ میں ڈالو گے ، اُس کا بھی اجر ہے۔ ( بخاری ، 1 / 35 ، حدیث : 56 )

پانچواں طبقہ ، بیوہ

بیوہ عورت کا خوشحال ہونا بھی ممکن ہے اور اولاد والی ہو تو اولاد بھی خدمت گار ہوسکتی ہے لیکن اگر عورت بیوہ ہو اور اس کا کوئی سہارا نہ ہو تو ایسے عورت کی ناتوانی ، محرومی اور پریشانی بالکل واضح ہےاور شوہر والی عورت کے مقابلے میں ایسی بیوہ کی کمزور حیثیت ہر کوئی سمجھ سکتا ہے۔ نبیِ رحمت صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے دینِ رحمت نے ایسی عورتوں کو سہارا دیا اور انتہائی مؤثر و دل نشین انداز میں بیواؤں کی مدد کرنے اور ان کے زندگی بھر کے معاملات میں تعاون کرنے کی ترغیب دی۔ بیوہ کا سہارا بننےکے لیے ترغیب و تحسین کے پُرزور اور پُر نور الفاظ ملاحظہ کریں۔ نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : بیوہ عورت اور مسکین کے لیے کوشش کرنے والا ایسے ہے ، جیسے اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والا یا ایسے کہ جیسے رات کو قیام اور دن کو روزہ رکھنے والا۔ ( بخاری ، 3 / 511 ، حدیث : 5353 )  اور حضور سیدِ دوعالم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی جانب سے بیوہ کے لیے کوشش کرنے کا صرف درس ہی نہیں دیا گیا ، بلکہ خود آپ کی اپنی مبارک زندگی کا یہی معمول تھا کہ بلاتردُّد بیواؤں اور بے سہاروں کا ساتھ دیتے ، اُن کی ضروریات پوری کرنےکے لیے اُن کے ساتھ جاتے اور اُن کی مرادوں کو بَر لاتے ، چنانچہ حضرت عبداللہ بن ابو اوفیٰ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیواؤں اور مسکینوں کی حاجت روائی کرنے کے لیے اُن کے ساتھ چلنے میں کوئی عار محسوس نہیں فرماتے تھے اور ساتھ چل کر اُن کی ضرورت پوری فرماتے۔ ( مشکاۃ المصابیح ، 2 / 368 ، حدیث : 5833 )

چھٹا طبقہ ، یتیم

یتیم یعنی باپ کے سائے سے محروم بچہ نہایت شفقت کا محتاج ہوتاہے۔یتیمی کے اثرات ذہن پر بہت گہرے نقوش چھوڑتے ہیں۔لاشعوری طور پر ایسا بچہ سہما ہوا اور تکلیف دہ احساسات کا حامل ہوتا ہے ، اس کی یتیمی اُس کی بہت بڑی کمزوری ہوتی ہے۔ لہٰذا دینِ اسلام نے اپنے حسنِ اعتدال اور تعلیماتِ احسان کے موافق اِس محکوم ، کمزور اور قابلِ رحم بچے پر شفقت ، نرمی ، محبت ، دل جوئی ، خوش طبعی اور اپنائیت کا احساس دینے کا درس دیا۔ یتیم کو بےسہارا سمجھ کر اس کا مال کھانے کا سوچنے والوں کو انتہائی ہولناک عذاب سے ڈرایا ، چنانچہ فرمایا : بیشک وہ لوگ جو ظلم کرتے ہوئے یتیموں کا مال کھاتے ہیں وہ اپنے پیٹ میں بالکل آگ بھرتے ہیں اور عنقریب یہ لوگ بھڑکتی ہوئی آگ میں جائیں گے۔ ( پ 4 ، النسآء : 10 )  یتیم بچّے کی ذمہ داری اٹھانے ، اس کی ضروریات پوری کرنے کی پرزور ترغیب دی۔ رحیم وکریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : میں اور یتیم کی دیکھ بھال کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔ پھر اپنی شہادت اور بیچ والی انگلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ان دونوں کو کھول دیا۔ ( بخاری ، 4 / 101 ، حدیث : 6005 )  اِسی طرح یتیموں کی پرورش کرنے والی عورت کی شان بیان کرتے ہوئے فرمایا : میں سب سے پہلے جنت کا دروازہ کھولوں گا ، مگر ایک عورت کو خود سے سبقت لے جاتے دیکھوں گا ، تو اس سے پوچھوں گا کہ تجھے کیا ہوا ؟ اور توکون ہے ؟ تو وہ کہے گی کہ میں وہ عورت ہوں جس نے خود کو اپنے یتیم بچوں کی پرورش کے لیے وقف کردیا تھا۔ ( مجمع الزوائد ، 8 / 296 ، حدیث : 13519 )

ساتواں طبقہ ، مظلوم

جسمانی ، ذہنی ، معاشی ، معاشرتی اور دیگر کثیرصورتوں میں جابروں کی بالادستی اور طاقتوروں کی زیادتی سے ایک بڑا طبقہ مظلومیت کا شکارہوتا ہے اور دادرسی کا محتاج ہوتا ہے۔ دینِ رحمت نے مظلوم کی حمایت کی بیسیوں جگہ پر درجنوں انداز میں تاکید فرمائی ، کیونکہ یہ فرد اورطبقہ اِس بات کا حق دار ہے کہ اِس کے حق میں آواز اٹھائی جائے ، اِس کے ساتھ کھڑا ہوا جائے اگرچہ وہ کتنا ہی معمولی آدمی ہو ، ظالم کی ظلم میں معمولی سی بھی تائید نہ کی جائے اگرچہ وہ وقت کا حکمران ہو ، ظالم کو ظلم سے سختی سے روکا جائے اگرچہ ظلم روکنے میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے ، ظالم کو سزا دی جائے اگرچہ وہ کتنا ہی زور آور ہو ، اس سے ظلم کا بدلہ لیا جائے اگرچہ کیسے ہی بڑے منصب پر فائز ہو۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ رسولِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے سات چیزوں کا حکم دیاجن میں ایک مظلوم کی مدد کرنابھی ہے۔ ( بخاری ، 2 / 127 ، حدیث : 2445 )  یونہی حدیثِ قدسی میں ہے : اےدا ؤد ! جوشخص بھی کسی مظلوم کی مدد کرے یا ظلم کے مقابلے میں اس کا ساتھ دے ، تو اللہ رب العزت قدموں کے پھسلنے کے دن اسے ثابت قدم رکھے گا۔  ( شعب الایمان ، 6 / 119 ، حدیث : 7668 )  رسول ِ خدا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا : جوظالم کے ساتھ اس کی مدد کےلئےچلا حالانکہ وہ جانتا ہےکہ یہ ظالم ہےتووہ اسلام سے خارج ہو گیا۔ ( یعنی کامل اسلام سے نکل گیا۔ )

 ( معجمِ کبیر ، 1 / 227 ، حدیث : 619 )

 ( جاری ہے۔۔۔ )

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

*  نگرانِ مجلس تحقیقات شرعیہ ، دارالافتاء اہل سنّت ، فیضان مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code