حضرتِ ابو قتادہ رضی اللہُ عنہ

روشن ستارے

حضرت ابو قتادہ رضیَ اللہ عنہ

*مولانا عدنان احمد عطّاری مدنی

ماہنامہ فیضانِ مدینہ مئی 2024ء

 ایک سفر میں پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے اپنے اصحاب سے فرمایا: اگر تم نے پانی تلاش نہ کیا تَو کل پیاسے رہ جاؤگے۔ لوگ جلدی سے پانی کی تلاش میں نکل پڑے لیکن ایک جاں نثار صحابی آقائے دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے ساتھ رہے، پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کو سواری پر اونگھ آگئی اور سواری کا کجاوہ ایک طرف جھکنے لگا تَو صحابیِ رسول نے اسے سہارا دیا (اور اوپر کیا) تو وہ اپنی جگہ پر ٹھہر گیا، (کچھ دیر بعد) کجاوہ پھر جھکنے لگا تو صحابیِ رسول نے اسے پھر سہارا دیا (اور اوپر کیا) تو وہ پھر سےاپنی جگہ پر ٹِک گیا، کجاوہ تیسری مرتبہ پھر جھکنےلگاقریب تھا کہ نیچے زمین پر آجاتا یہ دیکھ کر صحابیِ رسول نے اسے ایک بار پھر سے سہارادیا لیکن اس بار نبیِّ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم بیدار ہوگئے، پوچھا: کجاوے کے ساتھ کون ہے؟ عرض کی:ابو قتادہ! رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے پھر پوچھا: کب سے ساتھ چل رہے ہو؟ عرض کی: رات سے! یہ سُن کر حضورِ اکرم نے یوں دعا دی: اللہ تمہاری حفاظت کرے جس طرح تم نے اس کے رسول کی حفاظت کی۔([1])

پیارے اسلامی بھائیو! حضرت سیدنا ابو قتادہ رضیَ اللہ عنہ کا اصل نام حارِث بن رِبْعی ہے مگر شہرت ابو قتادہ کنیت سے ہوئی۔([2])

فضائل ومناقب: آپ کا شمار نہایت بہادر شہ سواروں میں ہوتا ہے آپ کو فارسِ رسولُ اللہ (یعنی رسول اللہ کے شہ سوار) کہا جاتا ہے([3]) ایک موقع پر ارشادِ مصطفےٰ ہوا: ہمارے بہترین شہ سوار ابوقتادہ اور بہترین پیادہ سَلَمہ بن اَکْوَع رضیَ اللہ عنہما ہیں۔([4]) آپ نے رسولُ اللہ صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کے محافظ ہونے کے فرائض بھی سرانجام دئیے ہیں([5]) آپ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے یا نہیں اس میں اختلاف ہے مگر بعد والے تمام غزوات میں شرکت کی ہے۔([6])

بارگاہِ رسالت میں: ایک بار آپ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: میرے سر پر زلفیں ہیں،کیا انہیں کنگھا کیا کروں؟ سیدِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: ہاں اور ان کا اِکرام کرو۔ لہٰذا آپ فرمانِ مصطفےٰ کی وجہ سے کبھی دن میں دو دو مرتبہ تیل لگالیا کرتے۔([7]) ایک جنگ کے موقع پر حضورِ اکرم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم کی نگاہِ کرم آپ کی طرف اٹھی تو دُعا دی: اے اللہ! اس کے بال اور کھال میں برکت دے اس کے چہرے کو کامیاب بنادے،آپ نے عرض کی: یارسولَ اللہ! آپ کو بھی۔ اس وقت حضرت ابو قتادہ رضی اللہُ عنہ کے چہرے پر ایک زخم لگا ہوا تھا، رحمتِ عالَم نے پوچھا: تمہارے چہرے پر کیا چیز لگی؟ عرض کی:تیر لگا تھا، حضورِ اقدس صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: قریب آجاؤ، آپ قریب ہوئے تو پیارے آقا نے اپنا لعابِ دہن آپ کے چہرے پر لگادیا، اس کی برکت یہ ظاہر ہوئی کہ نہ تو درد ہوا نہ زخم میں پیپ پڑی۔([8])

 میت کا قرضہ ادا کیا: آپ کے دل میں اپنے مسلمان بھائیوں کےلئے خیر خواہی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا، ایک مرتبہ ایک صحابی کا جنازہ لایا گیا رحمتِ عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے دریافت فرمایا: کیا اس میت کے ذمہ قرض ہے ؟ لوگوں نے عرض کی: 18 درہم کا قرض ہے، (جس پر قرض ہوتا تھا آقائے دو عالم اس کا جنازہ نہیں پڑھاتے تھے) ارشاد فرمایا:کیا اس نے قرضہ کی ادائیگی کے لئے کچھ چھوڑا ہے؟ عرض کی گئی: میت نے کچھ نہیں چھوڑا، ارشاد فرمایا: تم لوگ نمازِ جنازہ پڑھادو، اس موقع پر آپ نے عرض کی: یارسولَ اللہ! اگر میں اس کا قرضہ ادا کردوں تو آپ اس کی نماز جنازہ پڑھا دیں گے؟ سید دو عالَم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایا: اگر تم ادا کردو گے تو میں اس کی نماز پڑھا دوں گا، آپ اسی وقت گئے قرضہ ادا کردیااور بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوگئے، پھر پیارے نبی صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے میت کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔([9])

مقروض پر مہربانی: آپ نے کسی کو قرضہ دیاہوا تھا، واپس لینے کے لئے اس کے پاس جاتے تو وہ آپ سے چھپا رہتا (اور سامنے نہ آتا)، ایک دن گئے (دروازہ کھٹکھٹایا) تو اس کا لڑکا باہر نکلا آپ نے لڑکے سے پوچھا تواس نے کہا: وہ گھر میں ہیں اور کھانا کھا رہے ہیں، آپ نے بلند آواز سے کہا:اے فلاں! باہر نکل آؤ مجھے پتا چل گیا ہے کہ تم گھر میں ہو، یہ سُن کر وہ شخص باہر نکل آیا آپ نے اس سے چھپنے کی وجہ پوچھی تَو اس نے کہا: میرے پاس کچھ نہیں ہے میں تنگ دست ہوں، پوچھا: اللہ کی قسم ! کیا تم تنگ دست ہو ؟ اس نے جواب دیا: جی ہاں! یہ سُن کر آپ کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور (اس کا قرض معاف کرتے ہوئے) فرمایا: پیارے آقا صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے ارشاد فرمایاہے: جس نے اپنے قرض دار کو مہلت دی یا اس کا قرضہ معاف کیا تو بروز قیامت عرش کے سائے میں ہوگا۔([10])

جانور پر شفقت: ایک مرتبہ اپنے بیٹے کے گھر گئے تو بہو نے آپ کے وضو کے لئے پانی رکھا، ایک بلی آئی اور اس برتن میں منہ ڈال کر پانی پینے لگی، آپ نے (بلی کو بھگانے کے بجائے) برتن اس کی طرف جھکا دیایہاں تک کہ بلی نے پانی پی لیا، بہو یہ منظر دیکھ رہی تھی، آپ نے پوچھا: تمہیں حیرت ہورہی ہے؟ عرض کی:جی! آپ نے فرمایا: فرمانِ مصطفےٰ ہے:بلی نجس نہیں۔([11])

جذبہ جہاد: آپ خود اپنا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں اپنے سر کو دھو رہا تھا ابھی سر کے آدھے حصے کو دھویا تھا کہ گھوڑے کے ہِنْہِنانے کی آواز آئی وہ اپناکُھر زمین پر مار رہا تھا، میں سمجھ گیا کہ جنگ کا موقع آچکا ہے، میں اپنے سر کے بقیہ حصے کو دھوئے بغیر جہاد کے لئے کھڑا ہوگیا۔([12]) آپ 8 ھ میں نجد کی طرف پیش قدمی کرتے ہوئے 15 افراد کے سپہ سالار تھے، مالِ غنیمت میں 200 اونٹ، 2000 بکریاں اور بہت سارے قیدی ہاتھ لگے۔([13])

دربارِ خلافت: حضرت فاروقِ اعظم رضیَ اللہ عنہ نے آپ کو ملکِ فارس کی طرف بھیجا تو آپ نے شاہِ فارس کو جہنم واصل کیا اس کے جسم پر 15 ہزار کا ایک قیمتی پٹکا تھا، فاروقِ اعظم نے وہ پٹکا آپ کو عطا کردیا۔([14]) زمانۂ خلافتِ علی کی ہر جنگ میں مولا علی رضیَ اللہ عنہ کے ساتھ رہے۔([15]) حضرت علی نے آپ کو مکۂ مکرمہ میں گورنر کے عہدے پرفائز کیا۔([16])

وفات و مرویات: حضرت ابو قتادہ رضیَ اللہ عنہنے سن 54 ھ میں 70 برس کی عمر پاکر مدینے میں وفات پائی (چہرے پر جوانی کی ایسی رونق تھی) گویا کہ ابھی پندرہ برس کے جوان ہیں۔([17]) آپ سے روایت کردہ احادیث کی تعداد 170 ہے،بخاری و مسلم نے 11 پر اتفاق کیا ہے جبکہ انفرادی طور پر کتاب بخاری میں 2 اور مسلم میں 8 احادیث موجود ہیں۔([18])

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* سینیئر استاذ مرکزی جامعۃ المدینہ فیضانِ مدینہ، کراچی



([1])مسند احمد، 8/363،حدیث:22609

([2])الاعلام للزرکلی،2/154

([3])الاعلام للزرکلی،2/154

([4])سیر اعلام النبلاء، 4/88

([5])سبل الہدیٰ و الرشاد، 11/397

([6])اسد الغابہ، 6/263

([7])الموطأ امام مالک،2/435، حدیث: 1818

([8])مستدرك، 6/606،حدیث:6086

([9])مسند احمد،8/389، حدیث:22720ملخصاً

([10])مسند احمد 8/382، حدیث: 22686

([11])مسنداحمد، 8/373، حدیث: 26643

([12])سیراعلام النبلاء، 4/88

([13])سیر اعلام النبلاء، 4/89-سیرت حلبیہ، 3/272

([14])سیر اعلام النبلاء،4/90

([15])اسد الغابہ، 6/263

([16])الاعلام للزرکلی، 2/154

([17])الشفا،1/327-الاعلام للزرکلی،2/154

([18])سبل الہدی ٰ والرشاد،11/397۔


Share