بچوں کی ہچکچاہٹ بھگائیں انہیں پر اعتماد بنائیں

ماں باپ کے نام

بچوں کی ہچکچاہٹ بھگائیں اُنہیں پُراعتماد بنائیں

*ڈاکٹر ظہور احمد دانش عطاری مدنی

ماہنامہ فیضان مدینہ مئی 2024ء

بعض اوقات کچھ بچّوں میں ہچکچاہٹ بہت زیادہ ہوتی ہے جو درحقیقت ان کے لئے نقصان دہ ہوتی ہے۔ ایسے بچے کسی بات کا جواب یا ردعمل دینےمیں بہت سست ہوتے ہیں، عام طور پر کسی سے بات کرتے ہوئے والدین سے چمٹ جاتے یا پھر اپنا سر جھکا کر وہاں سے چلے جاتے یا آنکھیں بند کرکے اپنے آپ کو محفوظ کرنے کی کوشش کرتے ہیں، اس کے علاوہ اسکول میں ٹیچر کے سوالوں کا جواب دینے سے بھی گھبراتے اور کسی کو دوست بنانے سے بھی کتراتے ہیں۔ یہ الگ تھلگ بیٹھ کر دوسرے بچوں کو کھیلتا دیکھنا تو پسند کرتے ہیں مگر ان کے ساتھ شامل ہونے یا کسی قسم کی سرگرمی میں حصہ لینے سے خود کو باز رکھتے ہیں۔

یاد رکھئے کہ اگرچہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ بارہا یہ غیر ضروری جھجک اور ہچکچاہٹ خود بخود ختم ہوجاتی یا کافی حد تک کم ہوجاتی ہے مگر اس کے باوجود والدین کو چھوٹی عمر سے ہی اس کے سدِّباب کی طرف توجہ دینی چاہئے ورنہ بچے کی بہت سی صلاحیتیں پروان چڑھنے میں رُکاوٹ آسکتی ہے۔ اس معاملے میں والدین کے لئے  درج ذیل چند تجاویز پر عمل فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

بچے کی ہچکچاہٹ دور کرنے سے متعلق 16اہم تجاویز:

(1)بچے کے اندر معمولی جھجک و ہچکچاہٹ کوئی خرابی نہیں بلکہ یہ مروت اور لحاظ کا سبب ہوتی ہے،بالکل ہی ہچکچاہٹ نہ ہو تو بچے بدلحاظی پر اُتر آتے ہیں لہٰذا تھوڑی بہت ہچکچاہٹ ہو تو نظر انداز کردیجئے۔

(2)حد سے بڑھی ہوئی غیرضروری ہچکچاہٹ کو بھی ایک حد تک ختم کیجئے، اس قدر نہیں کہ بچہ حالات و شخصیات کا لحاظ ہی نہ رکھے۔

(3)بچے کو بات بات پر یا مختلف نقل وحرکات پر روکنے ٹوکنے سے گُریز کیجئے، اسے اس کے احساسات اور اپنی بچگانہ مَن مانی کرنے کی ایک حد تک آزادی دیجئے۔

(4)اگر غلط بات اور غلط حرکت پر اسے سمجھانا بھی ہو تو بروقت سمجھانے کے بجائے کسی مناسب موقع پر غیر محسوس انداز میں سمجھائیے۔

(5)بچے کی موجودگی میں دوسروں کو یہ نہ بتائیں کہ ”یہ بہت جھجکتا  اور گھبراتا ہے“ بلکہ اگر اس کے سامنے ہی کوئی اور اس کے بارے میں یہ بات کرے تو ”ہاں میں ہاں“ ملانے کے بجائے اس بات کو کوئی خوبصورت سا رُخ دیجئے مثلاً ”مَا شآءَ اللہ اب تو یہ مختلف سرگرمیوں میں حصہ لینے لگا ہے“ مگر جو بھی رُخ دیں، سچائی سے انحراف نہ کریں۔

(6)بچہ اپنی ہچکچاہٹ کی وجہ سے جن سرگرمیوں سے گُریزاں ہو اُن سرگرمیوں کے معاملے میں اس پر ہرگز زبردستی نہ کیجئے، بلکہ انہیں نوٹ آؤٹ کیجئے اور پھر رفتہ رفتہ اسے حوصلہ و دِلاسا دیتے ہوئے ان سرگرمیوں میں اس کی جزوی شمولیت کا انتظام کیجئے، بچہ کی چھوٹی بڑی کارکردگی پر داد بھی دیجئے، کبھی بھرپور انداز میں زبانی طور پر اور کبھی سرسری انداز میں اگرچہ مسکراہٹ ہی کے ذریعے ہو۔

(7)ہچکچاہٹ والا بچہ اگر کھیل کود یا کسی بھی چیز میں حصہ لے اور ناکامی ہو تو بارہا ناکامی کے باوجود بھی اس کے سامنے غصے یا چڑچڑے پن کا اظہار نہ کیجئے ،چہرے سے بھی افسوس کا تأثّر نہ دیجئے بلکہ مسکرا کر اسے بتائیے کہ شروعات میں عموماً مشکلیں آتی ہیں نیز آئندہ بہتری کا یقین بھی دلائیے۔

(8)وقتاً فوقتاً مختلف کھیلوں میں بچے کے ساتھ خود بھی شریک ہوں مگر جان بوجھ کر اسے ایکشن کا زیادہ موقع دیں۔

(9)بچہ بات کرے تو اس کی طرف توجہ رکھیں، اسے زیادہ بات کرنے کا موقع دیں تاکہ اس کا دل کھلے نیز بچے کے سوالات کا اطمینان بخش معلوماتی جواب دیں۔

(10)جھجک اور ہچکچاہٹ  والے یا کم حوصلہ بچے کا رشتہ دار و محلہ دار یا کلاس کے دیگر بچوں سے یا اس کے اپنے ہی بہن بھائیوں سے ہرگز Comparison نہ کریں، یعنی نوٹ کرنا تو الگ بات ہے مگر اس بچے کے سامنے ہی زبانی طور پر تقابلی تبصرے اور منفی تجزیے نہ کریں کہ اس کی سخت حوصلہ شکنی ہوگی، عزتِ نفس مجروح ہوگی اور کمتری کا احساس اسے مزید ہچکچانے پر مجبور کردے گا۔

(11)ہچکچاہٹ والے بچے کو زیادہActive اور ہوشیار بچوں کے ساتھ رکھنے کے بجائے نسبتاً کم عمر اور بھولے بھالے بچوں کے قریب رکھئے نیز اُنہیں کِھلونے، Learning objects یا  Moral/Informative Booksفراہم کیجئے اور باتوں ہی باتوں میں اسے اُن کا بڑا بنائیے مثلاً اسے کہئے کہ ”بیٹا! آپ ان کا خیال رکھئے، انہیں فلاں فلاں باتیں بتائیے یا فلاں کھیل جو آپ کو آتا ہے انہیں بھی سکھائیے، یا یہ کتابیں پڑھ کر سنائیے“ تاکہ اُسے کسی حد تک اپنی برتری کا احساس ہو اور اس کی جھجک دُور ہو۔

(12)گھروالوں یا رشتہ داروں وغیرہ کے گھر جائیں اور آپ کا یہ بچہ کسی سے بات کرے تو بار بار مت ٹوکئے  سب کے سامنے اسے آداب یا بول چال کے طور و ڈھنگ سکھانے سے بھی گُریز کیجئے، ایسے موقع پر بچہ سیکھ تو نہیں پاتامگر اس کی ہچکچاہٹ ضرور بڑھ جاتی ہے۔

(13)والدین کو چاہئے کہ School Teachers اور Tutors کو بھی بچے کی کمزوریِ اعتماد اور جھجک کے بارے میں بتائیں تاکہ وہ بچے سے اسی کے مطابق Behave کریں۔

(14)بچے میں اعتماد پیدا کرنے یا ہچکچاہٹ دور کرنے کے جو جذبات آپ کے دل میں ہیں انہیں بچے پر نہ جتائیں، بچے کا خیال ضرور رکھیں مگر بچے پر اس کا اظہار نہ کریں یعنی اسے اس بات کا زیادہ احساس نہ دلائیے کہ آپ اس کی بےحد پروا کرتے ہیں کیونکہ اس سے بچے کی جھجک اور عدمِ اعتمادی کو حوصلہ ملے گا۔

(15)والدین کو چاہئے کہ ایسے بچے کو حد سے زیادہ اپنے ساتھ چپکا کر نہ رکھیں بلکہ اسے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے بھی بھیجا کریں مگر یوں کہ بچہ آپ کی نگاہوں میں ہی ہو مثلاً بچے سے قریب رہتے ہوئے اسے سامنے والی دکان سے کچھ لینے بھیجیں، کسی محفوظ راستے پر چلتے ہوئے اس کے پیچھے رہیں اور اسے خود سے چند قدم آگے رہتے ہوئے چلنے کو کہیں، کسی قریب والے سے کوئی چھوٹی موٹی بات کرنے یا پوچھنے کے لئے اس بچے کو بطورِ قاصد بھیجیں، مسجد میں چندہ بچے سے دلوائیں یونہی راستے میں دعوتِ اسلامی کے Donation cell پر عطیات وغیرہ بھی۔

(16)والدین کو بچے کی ہچکچاہٹ والے معاملے سے آہستہ آہستہ اور وقفے وقفے کے ساتھ نمٹنا چاہئے، ہتھیلی پر سرسوں جمانے کی خواہش بچے کو مزید گھبراہٹ کا شکار کرسکتی ہے۔

اگر بچے کی ہچکچاہٹ دور کرنے اور بے اعتمادی والے رویوں اور احساسات کو تبدیل کرنے میں آپ کو کامیابی نہ ہوتو کسی ڈاکٹر، پیڈیاٹرسٹ یا ماہرِ نفسیات سے مشورہ بھی کیا جاسکتا ہے۔

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

* مدنی چینل فیضان مدینہ کراچی


Share

Articles

Comments


Security Code