Book Name:Deeni Ijtema Ki Barkat
روایات میں موجود ہیں *حضرت زکریا عَلَیْہِ السَّلام لوگوں کو اجتماعی طَور پر وعظ و نصیحت فرماتے تھے *حضرت سلیمان عَلَیْہِ السَّلام کے متعلق روایات ہیں، آپ بھی اجتماعات سجایا کرتے تھے *حضرت داؤد عَلَیْہِ السَّلام کے متعلق تو یہاں تک روایات ہیں کہ آپ اجتماع سجاتے اور خوفِ خُدا کے سبب اس قدر روتے کہ پُورے اجتماع پر رِقَّت طاری ہو جاتی، آپ کے اجتماع میں خوفِ خُدا کے غلبے کے سبب کئی لوگوں کی رُوح پرواز کر جایا کرتی تھی، ایسا پُرتاثِیر(Impressive) اجتماع ہوا کرتا تھا *اسی طرح حضرت نُوح عَلَیْہِ السَّلام *حضرت صالِح عَلَیْہِ السَّلام *حضرت ہُود عَلَیْہِ السَّلام *حضرت شعیب عَلَیْہِ السَّلام نے اپنی اپنی قوموں کو جو اجتماعی طَور پر نیکی کی دعوت دی، انہیں وعظ و نصیحت فرمائی، ان بیانات کے مضامین قرآنِ کریم میں ذِکْر ہوئے ہیں۔ غرض کہ انسانی تاریخ دِینی اجتماعات سے بھری پڑی ہے، شاید ہی کوئی ایسا دَور گزرا ہو، جس میں دِینی اجتماعات نہ سجائے گئے ہوں۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
تاریخِ انسانی کا ایک اَہَم تَرِین اجتماع
پیارے اسلامی بھائیو! اپنی فضیلت اور اہمیت کے لحاظ سے تاریخِ انسانی کا ایک اَہَم ترین اجتماع حَجَّۃُ الْوِدَاع کے موقع پر ہوا، اس میں خطیب ہمارے آقا و مولیٰ،امام الانبیا،مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم تھے اور اس خطاب کے سامعِین (سننے والے) صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوان بھی تھے اور روایات کے مطابِق اس اجتماعِ پاک میں حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام ، حضرت خضر عَلَیْہِ السَّلام اور حضرت الیاس عَلَیْہِ السَّلام بھی تشریف لائے تھے۔یہ تاریخِ انسانی کا وہ اَہَم ترین اجتماع ہے کہ جس میں رسولِ اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم