Deeni Ijtema Ki Barkat

Book Name:Deeni Ijtema Ki Barkat

چاہئے اور پابندی کے ساتھ اس نیک کام کو کرتے رہنا چاہئے، اس کی بہت برکتیں ہیں؛ مثلاً *اس نیک کام کی بَرَکَت سے اللہ و رسول کی محبّت نصیب ہوتی ہے *نیکیوں کی رغبت ملتی ہے *گُنَاہوں سے نفرت ملتی ہے *ایک دوسرے کے حال اَحْوال کی خبر مل جاتی ہے  *آپس میں گفتگو کرنے کا موقع مل جاتا ہے،جس کی بَرَکَت سے شکوے، شکایات اور بدگمانیوں وغیرہ کی کاٹ ہوتی رہتی ہے* عِلْمِ دین سیکھنے کو ملتا ہے *فِکْرِ آخرت نصیب ہوتی ہے *خوفِ خُدا سے رونا نصیب ہو جاتا ہے * توبہ کرنے کی توفیق بھی ملتی رہتی ہے۔غرض کہ دِینی اجتماعات *دِینی ماحول  سے وابستہ رہنے *نیکیوں پر استقامت پانے اور *دِینی کاموں سے متعلق کڑھن حاصِل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔

انبیائے کرام اور اجتماعی نیکی کی دعوت

 پیارے اسلامی بھائیو! تَذْکِیْر یعنی وعظ و نصیحت کرنا شریعت کو مَطْلُوب ہے۔قرآنِ کریم کے جو بنیادی(Main) عنوانات ہیں، اُن میں ایک اَہَم تَرِین عنوان تَذْکِیْر (وعظ و نصیحت) بھی ہے۔ اَنْبِیائے کرام علیہمُ السَّلام نے، صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْواننے، اَوْلیائے کرام رحمۃُ اللہِ علیہم نے اس تَذْکِیْر (یعنی وعظ و نصیحت) کے لئے جو انداز اختیار کئے، ان میں سے ایک اَہَم، بہت زیادہ دِلوں پر اَثَر کرنے والا اور مُعَاشرے میں اِنقلاب برپا کرنے والا انداز دینی اجتماعات بھی ہیں*اَنْبِیائے کرام علیہمُ السَّلام کے متعلق روایات موجود ہیں کہ یہ بلند رُتبہ حضرات اجتماعات سجایا کرتے، لوگوں کو جمع فرماتے، انہیں وعظ و نصیحت فرماتے اور اجتماعی طَور پر نیکی کی دعوت دیا کرتے تھے *حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام نے مختلف اَوْقات میں بنی اسرائیل کو جمع فرما کر جو خطبے دئیے یعنی بیانات فرمائے! ان بیانات کے مضامین