Book Name:Deeni Ijtema Ki Barkat
گئے)۔ اس ادب کی بَرَکَت سے اللہ پاک نے بھی ان سے حیا فرمائی یعنی ان پر رحم فرمایا اور گُنَاہوں کی معافی عطا فرما دی (3):اور تیسرا شخص (جو شایَد مُنَافق تھا) ([1]) اس نے بغیر کسی مجبوری کے دِینی اجتماع سے مُنْہ پھیرا، اس کی نحوست یہ ہوئی کہ اللہ پاک نے اس سے اِعْراض فرمایا (یعنی رحمت سے محروم کر دیا)۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو!اس حدیثِ پاک میں ہمارے لئے بہت سارے سبق ہیں،مثلاً *اس حدیثِ پاک سے معلوم ہوا کہ مسجد میں دِینی حلقے، محافِل یا اجتماعات سجانا مُسْتَحَب (یعنی ثواب کا کام) ہے*یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسی مَجْلِس (محفل یا دِینی اجتماع) جہاں عِلْمِ دین سیکھا سکھایا جا رہا ہو، اس مَجْلِس میں حاضِر ہونے والا اللہ پاک کی حفاظت اور اس کی پناہ میں آ جاتا ہے اور یہ وہی خوش نصیب ہے جس کے لئے فرشتے اپنے پَر بچھاتے ہیں۔([3])
مزید اس حدیثِ پاک میں دِینی اجتماعات، محافِل اور عِلْمِ دِین سیکھنے سیکھانے کے حلقوں سے متعلق ہمیں3 اَہَم آداب بھی سکھائے گئے ہیں:
(1):خالی جگہیں پُر کر لیجئے!
جب بھی دِینی اجتماع،محفل یا عِلْمِ دین سیکھنے سکھانے کے حلقے میں حاضِری کی سَعَادت ملے تو یہ کوشش کرنی چاہئے کہ جتنا ممکن ہو مُبَلِّغ کے قریب ہو کر بیٹھیں تاکہ اس کی بات آسانی سے اور پُوری تَوَجُّہ کے ساتھ سُن کر سمجھی جا سکے اور اگر اجتماع گاہ میں، محفل میں،