Deeni Ijtema Ki Barkat

Book Name:Deeni Ijtema Ki Barkat

جنہیں محفلِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم میں آگے جگہ نہ ملی تو وہ حیا کرتے ہوئے پیچھے ہی بیٹھ گئے، اس پر رسولِ اکرم،نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:اِسْتَحْیَا فَاسْتَحْیَا اللہُ مِنْہُ اس نے حیا کی تو اللہ پاک نے اس سے حیا فرمائی (یعنی اس پر رحمت فرمائی اور اسے معاف فرما دیا)۔

(3):دِینی اجتماعات میں رغبت رکھئے!

 پیارے اسلامی بھائیو!ایک اَہَم بات جو اس حدیثِ پاک سے ہمیں سیکھنے کو ملتی ہے، وہ یہ کہ  مصطفےٰ جانِ رحمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی محفلِ کرم کے قریب سے گزرنے والے 3 شخص تھے، ان میں سے 2 تو بارگاہِ رسالت میں آ کر بیٹھ گئے مگر ایک شخص جو شاید منافِق تھا، اس کو کوئی مجبوری بھی نہیں تھی، کوئی عُذر بھی نہیں تھا، اس کے باوُجُود اس نے بارگاہِ رسالت میں، محفلِ کرم میں، عِلْمِ دِین سیکھنے سکھانے کی مَجْلِس میں بیٹھنا گوارا نہ کیا تو اس پر رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا:اَعْرَضَ فَاَعْرَضَ اللہُ عَنْہُ اس نے مُنہ موڑا تو اللہ پاک نے بھی اس سے اِعْرَاض فرما لیا۔

اللہ!اللہ!پیارے اسلامی بھائیو!اس میں ہمارے لئے عِبْرت ہے...!!بعض دفعہ دِل میں خیال آتا ہو گا کہ ہفتہ وار اجتماع میں جانا، اجتماعِ شبِ براءَت، اجتماعِ معراج یا دیگر بڑی راتوں کے اجتماعات میں جانا کونسا فرض یا واجب ہے...!! لہٰذا نہ بھی گئے تو خیر ہے۔

یہ ایک شیطانی وار ہے۔یاد رکھئے!یہاں 2 چیزیں ہیں: ایک ہے کسی عَمَل کی سنگینی (Severityمثلاً گُنَاہ و حرام ہونا وغیرہ) اور ایک ہے اس عَمَل کی نحوست۔ ان دونوں میں بعض دفعہ فرق (Difference)ہوتا ہے،  اب دیکھئے! دِینی اجتماعات؛ *جہاں اللہ و رسول