Deeni Ijtema Ki Barkat

Book Name:Deeni Ijtema Ki Barkat

حاضِر تھے(اور ایک اجتماع یا حلقے کی صُورت میں درس و بیان، ذِکْر، اَذْکار وغیرہ کا سلسلہ جاری تھا)۔

(سُبْحٰنَ اللہ! کیسا خوبصُورت، نِرالا، عشق بھرا اور ایمان افروز منظر ہو گا...!!

خیر! رَاوِی کہتے ہیں:محفلِ نُور سجی ہوئی تھی کہ اتنے میں 3 شخص وہاں سے گزرے، انہوں نے جب دیکھا کہ مسجدِ نبوی شریف میں محفلِ نُور جاری ہے،سرکارِ عالی وقار، مکی مدنی تاجدار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم صحابۂ کرام علیہمُ الرِّضْوان کی تربیت فرما رہے ہیں تَو اُن میں سے ایک شخص تو اپنے رستے چلا گیا، باقی 2 مسجد میں حاضِر ہوئے، ان 2 میں سے ایک نے خالی جگہ دیکھی تو آگے بڑھ کر وہاں بیٹھ گئے، دوسرے کو کوئی جگہ نہ مِل سکی تو یہ سب سے آخر میں بیٹھ گئے۔

جب پیارے نبی،رسولِ ہاشمی صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم (درس و بیان وغیرہ سے) فارِغ ہو گئے تو فرمایا: کیا میں تمہیں 3 لوگوں کے متعلق خبر نہ دُوں...؟ *ان میں سے ایک نے اللہ پاک كے حُضُور پناہ لی تو اللہ پاک نے اسے پناہ عطا فرما دی *دوسرے نے حیا کی تو اللہ پاک نے بھی اس سے حیا فرمائی *اور تیسرے نے مُنہ موڑا تو اللہ پاک نے بھی اس سے اعراض فرما لیا۔([1])

اس حدیثِ پاک کی شرح میں عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا معنیٰ یہ ہے کہ ان 3 لوگوں میں سے (1):پہلے صحابی رَضِیَ اللہُ عنہنے مجلس مُبَارَک (یعنی مسجدِ نبوی شریف میں سجی ہوئی اس محفلِ پاک میں آگے جگہ ڈھونڈنی چاہی تو) اللہ پاک نے انہیں اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کے قُرْب میں جگہ عطا فرمائی یا یہ مطلب ہے کہ اس نیک عمل کی بَرَکَت سے روزِ قیامت انہیں عرش کے سائے میں جگہ عطا ہو گی (2):دوسرے صحابی رَضِیَ اللہُ عنہ نے نبی اکرم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم سے حیا کی (کہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم بیان فرما رہے تھے، لہٰذا یہ پیچھے ہی بیٹھ کر پیارے آقا کی پیاری باتیں سننے میں  مَصْرُوف ہو


 

 



[1]...بخاری، کتاب العلم، باب من قعد...الخ، صفحہ:90، حدیث:66 ۔