Maut Ke Qasid

Book Name:Maut Ke Qasid

معلوم ہواکہ بڑھاپا بھی  موت کے قاصدوں میں سے  ہے یہ ایسی عمر ہے کہ اس میں انسان کو خواہِشاتِ نَفْس  ترک کرکے دُنیا کی مَحَبَّت سے پیچھا چُھڑاکر اللہ پاک کی طرف لو لگالینی چاہیے اورزندگی کے  باقی دن موت کی یاداور آخرت کی تیاری   میں بسر کرنے چاہییں۔ ہمارے بُزرگانِ دِین یوں تو اپنی ساری زندگی فکرِآخرت اور اَحکامِ خُداوَندی   کی بجاآوری میں ہی  بسر کرتے تھے مگر جب  انہیں اپنی داڑھی یا سرکے بالوں  میں ایک سفید بال  نظرآجاتا تو خَلْوَت نشینی اِخْتیار کرلیتے اور ہر وَقْت اللہ  پاک کی عِبادَت ورِیاضَت میں مَشغُول ہوجاتے ۔جیساکہ

خلوت نشین بزرگ:

     حضرت ایاس بن قتا دہ  رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ اپنی قوم کے سردار تھے ۔ایک دن آپ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُ نے اپنی داڑھی میں ایک سفید بال دیکھا تو دُعا کی :یا اللہ  پاک! میں اچانک ہونے والے حادِثات سے تیری پنا ہ چاہتا ہوں ، مجھے معلوم ہے کہ موت میری تاک میں ہے اور میں اس سے بچ نہیں سکتا۔ پھر وہ اپنی قوم کے پاس تشریف لے گئے اورفرمانے لگے: اے بنو سعد ! میں نے اپنی جوانی تم پر وَقْف کر دی تھی اب تم میرا بُڑھاپا مجھے بخش دو ۔پھرآپ رَضِیَ اللہُ  عَنْہُاپنے گھر تشریف لائے اور عبادت میں مصروف ہوگئے یہاں تک کہ آپ کا وِصال ہوگیا۔ (بحر الدموع،ص۱۱۲ )

 پیارے  اسلامی  بھائیو! بُوڑھا شخص موت کے بہت زیادہ قریب ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود بعض لوگ اس عمر میں بھی گُناہوں کی دَلْدَل میں پھنسے رہتے ہیں اور گالی گلوچ،