Book Name:Esal e Sawab Ki Barkatain
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
فرمانِ مصطفےٰ صَلّی اللہُ عَلَیْہ وآلِہ وسَلَّم:اَفْضَلُ الْعَمَلِ اَلنِّيَّۃُ الصَّادِقَۃُ سچی نیت سب سے افضل عمل ہے۔ ([1]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم حاصل کرنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * بااَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے پیارے اسلامی بھائیو!ایصالِ ثواب کے لفظی معنیٰ ہیں:’’ثواب پہنچانا‘‘ اس کو’’ثواب بخشنا‘‘بھی کہتے ہیں مگر بُزرگوں کیلئے’’ثواب بخشنا‘‘ کہنا مُناسِب نہیں،’’ثواب نَذْر کرنا‘‘کہنا ادب کے زیادہ قریب ہے۔اعلیٰ حضرت،امامِ اہلسنت مولانا شاہ امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:حُضُورِاقدس عَلَيْهِ اَفْضَلُ الصَّلاةِ وَالتَّسْلِيْم خواہ اورنبی یا ولی کو ’’ثواب بخشنا‘‘ کہنابے ادَبی ہے، بخشنا بڑے کی طرف سے چھوٹے کوہوتاہے بلکہ نَذر کرنایاہدِیَّہ کرناکہے۔(فتاویٰ رضویہ،26/609)