Book Name:Esal e Sawab Ki Barkatain
ہے۔(2)مَیِّت کو صدقہ و خیرات کا ثواب بخشنا سُنّت ہے۔(3)مَیِّت کے نام کا کھانا اس کے پیاروں(اور)دوستوں کو دینا بہتر ہے،اس سے مَیِّت کو دُہری(یعنی ڈبل)خوشی ہوتی ہے،ایک ثواب پہنچنے کی دوسرے اس کے دوستوں پیاروں کی امدادہونے کی۔(مرآۃ المناجیح،۸/۴۹۶)
اے عاشقان رسول !معلوم ہوا!زندوں کا مُردوں بلکہ جو لوگ پیدا ہی نہیں ہوئے ان کو بھی ثواب پہنچانا نہ صرف جائز بلکہ سُنّت سے ثابت ہے۔یہ بھی معلوم ہوا!کھانا وغیرہ سامنے رکھ کر ثواب پہنچانا بھی جائز عمل ہے ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ صحابہ و اَہلِ بَیْت!یاد رکھئے!ثواب پہنچانے کا یہ سلسلہ صرف سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذات تک ہی محدود نہیں بلکہ آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کےصحابَۂ کرام رَضِیَ اللہ ُ عَنْھُمْ اَجْمَعِیْن بھی فوت شدہ مسلمانوں کو ثواب پہنچانے کے مختلف انداز اپنایا کرتے تھے ،چنانچہ
حضرت علامہ جلالُ الدّین سُیُوطِی شافِعی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ نقل فرماتے ہیں:صحابَۂ کرام رَضِیَ اللہ عَنْھُمْ اَجْمَعِیْن سات(7)روز تک مُردوں کی طرف سے کھانا کھلایا کرتے تھے۔(الحاوی للفتاوی، ۲/۲۲۳)
حضرت سعد بن عُبادہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُکی والدہ صاحبہ کا انتقال ہوا توانہوں نے بارگاہ ِرسالت میں حاضر ہو کر عرض کی:یارسولَاللہ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! میری والدۂ محترمہ کا میری