Book Name:Esal e Sawab Ki Barkatain
حالت میں عذا ب کا شکار تھی مگرجباللہ کریم کے ایک بندے نے گزرتے ہوئے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّمَ پر دُرُودِ پاک پڑھا اور اس کا ثواب قبرستان والوں کوپہنچایا تو نہ صرف اس لڑکی کو عذاب سے نجات مل گئی بلکہ مزید سینکڑوں مُردوں کو عذاب سے رہائی نصیب ہوئی۔ذرا سوچئے!ربِّ کریم کس قدر مہربان ہےکہ اس نے صِرْف ایک بار دُرُود شریف کی بَرَکت سے سینکڑوں مُردوں پر سےعذاب دور فرما دیا،تو جو مسلمان کثرت سے درودِ پاک پڑھنے اور نیکیوں کا ثواب فوت شدہ مسلمانوں کو بھیجنے کا عادی ہوگا تو اللہ پاک ثواب پہنچانے والے اور جن کو ثواب پہنچایا گیا ان سب پر اِنعام و اکرام کی کیسی بارشیں برسائے گا۔لہٰذا ہمیں بھی چاہئے کہ ثواب پہنچانے کے معامَلے میں سُستی کرنے کے بجائے وقتاً فوقتاً دُرودِ پاک اور نیکیوں سے حاصل ہونے والا ثواب پہنچاتے رہیں،ان کے لئے دُعائے مغفرت کرتے رہیں کیونکہ یہ ایک ایساجائز اور بہترین عمل ہے جس کی بَرَکتسے فوت شدہ مسلمانوں کے ساتھ ساتھ زِندوں کو بھی فائدہ ہوتاہے،جیسا کہ
صاحبِ بہارِ شریعت حضرت علامہ مولانا مفتی محمدامجدعلی اَعظمی رَحْمَۃُ اللّٰہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: اِیصالِ ثواب یعنی قرآنِ مجید یا دُرُود شریف یا کلمۂ طیبہ یا کسی نیک عمل کا ثواب دوسرے کو پہنچانا جائز ہے۔ عبادتِ مالیہ(ہو)یا بَدَنیہ(مالی عبادت جیسے صدقہ وخیرات اوربَدَنی عبادت جیسے نماز روزہ وغیرہ )، فَرض ونفل سب کا ثواب دوسروں کو پہنچایا جاسکتا ہے کیونکہ زِندوں کے اِیصالِ ثواب(ثواب پہنچانے) سے مُردوں کو فائدہ پہنچتاہے۔(بہارِشریعت، ۳/ ۶۴۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!انسان جب تک دُنیا میں رہتا ہے تو اس کےآس پاس اس کے ماں