Esal e Sawab Ki Barkatain

Book Name:Esal e Sawab Ki Barkatain

باپ،بہن بھائی،بِیوی بچے،رشتے دار اور دوست وغیرہ موجود  ہوتے ہیں جو اس کے دُکھ درد اور آزمائشوں میں اس  کے ساتھ ساتھ رہتے اوراس کا غم ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں،بیمار ہوں تو عِیادت بھی کرتے ہیں، مگر جب یہی انسان اندھیری قبر  میں جاپہنچتا ہے تو وہاں اس کے ماں باپ،بہن بھائی،رشتے دار اور دوستوں وغیرہ میں سے کوئی بھی نہیں ہوتا بلکہ وہ قبر میں اکیلا ہی ہوتا ہے۔ قبر میں جانے کے بعداس پر جو گزرتی ہے اس کا حال تو وہ خود ہی بہتر جانتا ہے ۔

قبر کی حقیقت بیان کرتے ہوئے رسولِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ  واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ارشاد فرماتے ہیں: اَلْقَبْرُ رَوْضَةٌ مِنْ رِيَاضِ الْجَنَّةِ،اَوْ حُفْرَةٌ مِنْ حُفَرِ النَّاریعنی بیشک قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا دوزخ کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ہے۔(ترمذی،۴/۲۰۸، حدیث: ۲۴۶۸) اب جو قبر میں موجود ہے تو   ہمیں اس کے بارے میں معلوم  نہیں کہ قبر اس کےلیے  جنت کا باغ (Garden)ثابت ہوئی  ہوگی یا مَعَاذَ اللہ   دوزخ کا گڑھا بنی  ہوگی۔لیکن  ہمیں  ایک مسلمان کے ساتھ خیر خواہی  کا جذبہ رکھتے ہوئےاس کو ثواب پہنچانے کی عادت بنانی چاہیے ۔

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                            صَلَّی اللہُ  عَلٰی مُحَمَّد

احادیثِ مبارکہ سےثواب پہنچانے  کا ثبوت

اُمُّ المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا سے روایت ہے،رَسُوْلُ اﷲ صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حکم فرمایا:سینگ والا مینڈھا لایا جائے جو سیاہی میں چلتا ہو، سیاہی میں بیٹھتا ہو اور سیاہی میں دیکھتا ہو(یعنی اس کے پاؤں،پیٹ اور آنکھیں کالے رنگ کی ہوں)وہ قربانی