Book Name:Esal e Sawab Ki Barkatain
بھی معلوم ہوا!ثواب پہنچانے والوں سے رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَبھی بہت خوش ہوتے اور خوشخبریوں سے نوازتے ہیں۔یاد رکھئے!کسی فوت شدہ مسلمان کوثواب پہنچانا بظاہرتھوڑا عمل ہے،مگراس کی برکتیں بہت ہی زیادہ ہیں مگر افسوس!اب ہم دُنیوی کاموں میں اس قدر مشغول ہو گئے ہیں کہ ہمارے پاس اپنے فوت شدہ مسلمانوں کو ثواب پہنچانے یا ان کی قبر پرجاکر فاتحہ وغیرہ پڑھنے کیلئے بھی وَقْت نہیں،کتنے افسوس کی بات ہے کہ ہم دنیوی کام تو آسانی سےنمٹالیتے ہیں مگر جس عمل میں خود ہمارا اورہمارے فوت شدہ مسلمانوں کا بہت بڑا فائدہ ہے اسے ہم دُشوار سمجھتے ہیں یا پھر اَہَمِّیَّت دینےکے لئے تیار نہیں، بالفرض کسی کے پاس وَقْت ہے تو اُسے ثواب پہنچانے کا طریقہ معلوم نہیں ، پھر اس کام کے لئے بھی مسجد کے امام صاحب ،مؤذِّن صاحب یا کسی مذہبی شخص کو تلاش کیا جاتاہے۔
اللہ پاک شیخِ طریقت،امیرِاَہلسنتدَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کو سلامت رکھے جنہوں نے ہم جیسے لوگوں کی رہنمائی کیلئے مختلف موضوعات پر کتب و رسائل تحریر فرما دئیے تاکہ ہم ان کے مطالعے کے ذریعے اپنے دِینی و دُنیوی معمولات کو اچھے طریقے سے ادا کرسکیں۔
رسالہ”فاتحہ اور اِیصالِ ثواب کا طریقہ“کا تعارف
بالفرض کسی کو فاتحہ کرنےاور ثواب پہنچانے کا طریقہ نہیں آتا تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں،اس کے لئےمکتبۃ المدینہ سے شیخِ طریقت،امیرِاَہلسُنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا رسالہ ”فاتحہ اور اِیصالِ ثواب کا طریقہ“ہَدِیَّۃً طلب کرکے اس کا مطالعہ کیجئے۔جس میں بہت سی معلومات کے ساتھ ساتھ ثواب پہنچانے کا طریقہ بھی موجود ہے۔اس رسالے کو خودبھی پڑھئے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دلائیے۔بالخصوص ثواب پہنچانے کے