Book Name:Esal e Sawab Ki Barkatain
کو افضل یہی کہ جو عملِ صالح (یعنی جو بھی نیک کام)کرے اس کا ثواب اَوّلین و آخِرین اَحیاء واَموات (یعنی پہلے و بعد کے زندہ اور فوت شدہ مسلمانوں بلکہ)تمام مؤمنین و مؤمنات کے لیے ہدیہ بھیجے(یعنی ثواب پہنچائے)،سب کو ثواب پہنچے گااور اُسے(یعنی ثواب پہنچانےوالے کو)اُن سب کے برابر اَجْر(و ثواب)ملے گا۔ (فتاویٰ رضویہ،۹/۶۱۷)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
اے عاشقانِ اعلیٰ حضرت!ہمارے معاشرے میں یہ رواج عام ہے کہ ہم زندگی میں مختلف مواقع پر ایک دوسرے کو تحائف (Gifts) بھیج کر اپنی دوستی یا رشتے داری کو مزید مضبوط بناتے ہیں ، جب ہمارا بھیجا ہوا تحفہ اگرچہ وہ معمولی قیمت کا ہو ہمارے رشتے دار یا دوست تک پہنچ جاتا ہے تووہ اسے دیکھ کر خوش ہوتاہے پھر وہ بھی ہمیں بدلے میں تحفہ بھیج کر اپنی عقیدت و مَحَبَّت کا اظہار کرتا ہے، مگر جب وہ رشتے دار یا دوست فوت ہوجاتا ہے تو تحائف کا یہ سلسلہ بھی رُک جاتا ہے۔ لیکن اگر ہم چاہیں تو ثواب پہنچانے کی صورت میں اس سے بہتر تحفے بھیج کر اس کی خوشی کا سامان کرسکتے ہیں ۔جی ہاں!ہمارا ثواب پہنچانا فوت شدہ مسلمانوں کے لئے تحفہ بن جاتے ہیں جنہیں پاکر انہیں بے حد خوشی محسوس ہوتی ہے،جیساکہ
حضرت عبْدُ اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ عنھمابیان کرتےہیں، نبیِّ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:میت قبر میں ڈوبتے ہوئے فریادی کی طرح ہی ہوتی ہے جو ماں، باپ، بھائی یا دوست کی دعائے خیرپہنچنے کےانتظار میں رہتی ہے،پھر دعا اسےپہنچ جاتی ہے تو اسے