Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain
امیرِاَہلسنت حضرت علامہ مولانا محمدالیاس عطار قادِری دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مشہور کتاب ”فیضانِ سُنّت“ کی پہلی جلد کے صفحہ نمبر 263 پر ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
زبردست مُحَدِّث حضرت ہُدبہ بن خالِد رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہکوخلیفہ ٔبغداد مامون رشید نےاپنے ہاں دعوت پر بُلایا۔کھانے سے فارغ ہو کر کھانے کےجو دانےوغیرہ گر گئےتھے آپ چُن چُن کر کھانے لگے ۔خلیفۂ بغداد مامون رشیدنےحیران ہوکرکہا: اے شیخ! کیا آپ کا ابھی تک پیٹ نہیں بھرا؟ فرمایا: کیوں نہیں! دراصل بات یہ ہےکہ مجھ سےحضرت حَمّادبن سَلَمہ رَضِیَ اللہُ عَنْہُنےایک حدیثِ پاک بیان فرمائی ہے:جو شخص دسترخوان کے نیچے گرے ہوئے ٹکڑوں کو چُن چُن کر کھائےگا،وہ محتاجی سے بےخوف ہو جائے گا۔ ( اتحاف،الباب الاول،۵/۵۹۷)میں اِسی حدیثِ مبارَکہ پرعمل کررہا ہوں۔یہ سُن کر مامون بے حد مُتَأَ ثِّر ہوا اور اپنےایک خادِم کی طرف اِشارہ کیا تو وہ ایک ہزار(1000)دینار(یعنی سونے کے سِکّے)رومال میں باندھ کر لایا۔ خلیفۂ بغداد مامون نےوہ دینارحضرت ہُدبہ بن خالِدرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہکی خدمت میں بطورِ نذرانہ پیش کردئیے۔ حضرت ہُدبہ بن خالِدرَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ نے فرمایا:اَلْحَمْدُ لِلّٰہ!حدیثِ مبارَکہ پر عمل کی برکت ہاتھوں ہاتھ ظاہر ہو گئی۔(ثمراتُ الاوراق،۱/۸)
پیارے اسلامی بھائیو!بیان کردہ واقعےسے2 اہم نِکاتحاصل ہوئے۔ پہلا نکتہ یہ کہ دستر خوان پر گِرے ہوئے ٹکڑے اُٹھا کر کھانے سے رِزْق میں برکت ہوتی ہےاورتنگیِ رزق سے حفاظت نصیب ہوتی ہے، مگرافسوس!فی زمانہ ہمارے گھروں میں انتہائی بے حِسی کے ساتھ رِزْق کی ناقدری اوربےحُرمتی کی جاتی ہے۔چائے،پانی،کولڈڈرنک اورشربت وغیرہ پینے اور کھانا کھانے کے بعد برتن میں تھوڑا سا چھوڑ دیا جاتا ہے جس کو اب شاید فیشن سمجھا جاتا ہے اور پھر اُسے گندی نالیوں کی