Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain
ہے۔ دوسرا مطلب یہ ہے آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم جو بھی بولتے ہیں وہ یا تو قرآن ہوتا ہے یا حدیث اور دونوں وحی ہیں۔ ہاں! قرآن وَحیِ جَلی ہے اور حدیث وَحیِ خَفی ہے۔ ([1])
پیارےاسلامی بھائیو!ہمارے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی حَسِین اداؤں میں سےایک پیاری ادا یہ بھی ہے کہ آپ گفتگو پُر وقار انداز میں ٹھہر ٹھہر کر فرماتے تھے، چنانچہ
اُمُّ المُوْمِنِیْن حضرت عائشہ صِدّیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا فرماتی ہیں: پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بہت تیزی کے ساتھ جلدی جلدی گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ ٹھہر ٹھہر کر کلام فرماتے تھے ۔ کلام اتنا صاف اور واضح ہوتا تھا کہ سُننے والے اُس کو سمجھ کر یاد کر لیتے تھے۔ اگر کوئی اَہَم بات ہوتی تو کبھی کبھی تین(3)تین(3)مرتبہ دُہرا دیتے تاکہ سُننے والےاُس کو اچھی طرح ذہن نشین کر لیں۔پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ بِلا ضرورت گفتگو نہیں فرماتے تھے بلکہ اکثر خاموش ہی رہتے تھے۔
(الشمائل المحمدیۃ،باب کیف کان کلام رسول اللہ،ص۱۳۴۔۱۳۵،حدیث:۲۱۳۔۲۱۴۔۲۱۵)
پیارے اسلامی بھائیو!ابھی ہم نے نبیِ کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی مبارَک گفتگوکے بارے میں جو چند پیاری پیاری ادائیں سُنیں۔اِس سے جومعلومات حاصل ہوئیں،اُن کا خلاصہ یہ ہے کہ* گفتگو کرتے وقْت آوازبہت زیادہ تیزاورجلدی جلدی میں نہ ہو کہ اِس سے سامنے والے کے لئے بات سمجھنا مشکل ہوجاتا ہے۔ * جب بھی بات کریں تو آواز اتنی دِھیمی اور کم نہ ہو کہ سامنے والے تک آواز نہ پہنچے یا پھر اُسے الفاظ ہی سمجھ میں نہ آئیں۔اِسی طرح گفتگو کرنے میں اِس قدر بلند آواز بھی نہیں ہونی چاہئے کہ کوئی تیسرا اسلامی بھائی گفتگو کی وجہ سے آزمائش میں مُبْتَلا ہو جائے یا تکلیف محسوس