Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain

Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain

                             آئیے!سب سے پہلے پیارے آقا،خاتمُ النبیین صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ظاہری زندگی کے بارے میں سُنتے ہیں، چنانچہ

اَخلاقِ مصطفے کی جھلکیاں

اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہُ عَنْہا فرماتی ہیں:رسولِ پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے زیادہ کوئی خوش اَخلاق نہیں تھا۔آپ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے صحابہ یا آپ کے گھر والوں میں سے جو کوئی بھی آپ کو پکارتا تو آپ لَبَّیْک(یعنی میں حاضر ہوں)کہہ کر جواب دیتے۔

حضرت جَریر رَضِیَ اللہُ عَنْہُفرماتے ہیں:جب سے میں مسلمان ہوا ہوں کبھی بھی رسولِ کریم  صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھےاپنےپاس  آنےسے نہیں روکا اورجس وقْت بھی مجھے دیکھتے تو مسکرا دیتے۔آپ اپنے صحابہرَضِیَ اللہُ عَنْہُم سے خوش طبعی بھی فرماتے۔ سب کے ساتھ مِل جُل کر رہتے۔ ہر ایک سے گفتگو فرماتے۔ صحابۂ کرامرَضِیَ اللہُ عَنْہُمکے بچوں سے بھی خوش طبعی فرماتے اور  اُن بچوں کو اپنی مبارَک گود میں بٹھا لیتے۔آزاد، غلام اور مسکین سب کی دعوتیں قبول فرماتے۔مدینے کے دُور دراز مقامات پر رہنے والے مریضوں کی عیادت کیلئے تشریف لے جاتے اور مَعْذِرَت کرنے والے کی مَعْذِرَت قبول فرما لیا کرتے تھے۔(شفاء ،فصل واما حسن عشرتہ، ۱ / ۱۲۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!                                                صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

پیارے اسلامی بھائیو!آپ نے سُنا کہ حضور نبیِّ رَحمت صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ گھر والوں، اپنے اصحاب عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان ،اپنےرشتے داروں اور اپنے پڑوسیوں حتّٰی کہ ہرایک کے ساتھ اِتنے اچھے  اَخلاق اور ملنساری کےساتھ پیش آتےکہ ہرایک آپ کےاخلاقِ کریمہ سے مُتَأَثِّرہوکرآپ سے محبت کرنے والا بن جاتا۔جب کوئی آپ کو بُلاتا تو آپ جواب میں لَبَّیْک(یعنی میں حاضر ہوں) فرماتے۔ جبکہ