Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain
کئی لوگوں کا حال اب یہ ہوچکا ہے کہ اُن کے گھر والے،دوست،رشتے دار وغیرہ اُن کی بداَخلاقی و زبان درازی کی وجہ سے اُن سے دوربھاگتے ہیں، کیونکہ کبھی وہ اَبے تبے یعنی بازاری انداز سے بات کرتے ہیں تو کبھی دوسروں کے ساتھ لڑتے جھگڑتے اور گالم گلوچ کرتے ہیں۔کبھی کسی کی غیبت،چغلی کرتے اور دل دُکھاتے ہیں تو کبھی گھر میں والِدَین اور بہن بھائیوں سے اُلجھتے ہیں۔کبھی دوستوں کے ساتھ بےوفائی اور بدسُلوکی کرتے ہیں۔کبھی بچوں کے ساتھ بِلاوجہ سختی سے پیش آتے ہیں۔کبھی گھر والوں کے ساتھ جھگڑا کرتے ہیں تو کبھی پڑوسیوں پر بَرستے ہیں۔کبھی سُسرال والوں کے ساتھ تو کبھی اپنے دیگر رشتے داروں کےساتھ تعلق توڑلیتے ہیں۔الغرض آج بہت سے مسلمان نہ ظاہر میں سُنّتِ مصطفے کے پابند ہیں اور نہ ہی کردار میں اخلاقِ مصطفے کے پیکر،حالانکہ رَبِّ کریم نے ہمیں اپنے محبوب صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَکی پیروی کرنے کاحکم اِرشاد فرمایا:
لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ (پ۲۱،الاحزاب:۲۱)
ترجَمۂ کنز ُالعرفان:بیشک تمہارے لئے اللہ کے رسول میں بہترین نمونہ موجود ہے
مشہور مُفَسِّرِ قرآن حضرت مفتی احمدیار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہ اِس آیتِ مبارَکہ کے تحت فرماتے ہیں:معلوم ہوا!کامیاب زندگی وہی ہے جو اُن کے نقشِ قدم پر ہو،اگر ہمارا جینا،مرنا،سونا، جاگنا، حُضور (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ) کے نقشِ قدم پر ہوجائے تو یہ سارے کام عبادت بن جائیں۔
(نور العرفان، پ۲۱، الاحزاب، تحت الآیۃ:۲۱)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!یہ حقیقت ہے کہ جو لوگ اُٹھنےبیٹھنے،چلنے پھرنے، سونے