Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain

Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain

کرے،لہٰذا جب بھی گفتگو کریں آواز میں میانہ رَوِی کا خاص خیال رکھئے تاکہ سامنے والا بات بھی سمجھ لےاور کسی تیسرےکو تکلیف بھی نہ پہنچے۔* جب کسی کو کوئی بات سمجھانا مقصود ہو تو بات کو ایک سے زائد بار دہرانے میں حرج نہیں اور نہ ہی اِس مقصد سے ایک جملہ کئی باردہرانافضول بولنے میں آتا ہے بلکہ کسی کو اچھی طرح بات سمجھانے اور ذہن نشین کرانے کے لئے اپنی بات کو ایک سے زائد مرتبہ دُہرانا ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری پیاری ادا ہے۔* بِلا ضرورت گفتگو کرنے سے اچھا یہ ہے کہ خاموش رہا جائے، اِس لئے کہ فُضول گفتگو میں ذرا بھی بھلائی نہیں ہے اور فُضول گفتگو اکثر اوقات پچھتاوے کا سبب بھی بن جاتی ہے۔ پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ اکثر خاموش رہا کرتے تھے، مگر اِس کا مطلب یہ نہیں کہ بندہ اپنی زبان سے ذِکْرُاللہبھی نہ کرے اور نیکی کی دعوت دینے اور بُرائی سے روکنے جیسے اچھے کام سے ہی اپنے آپ کو روک لے۔

خاموشی سے مراد کیا ہے؟

حکیمُ الْاُمَّت حضرت مفتی احمد یارخان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہفرماتےہیں:خاموشی سےمُرادہےدنیاوی کلام سے خاموشی ورنہ حُضورِ اقدس (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ )کی زبان شریف اللہ پاک کے ذِکر میں تَر رہتی تھی،لوگوں سے بِلاضرورت کلام نہیں فرماتے تھے،یہ ذِکْر ہے جائز کلام کا،ناجائز کلام تو عمر بھر زبان شریف پر آیا ہی نہیں۔ جھوٹ، غیبت،چغلی وغیرہ ساری عمر شریف میں ایک بار بھی زبان مبارَک پر نہ آیا۔حضور(صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) سراپا حق ہیں ،پھر آپ تک باطل کی رسائی کیسے ہو؟آم کے درخت میں جامن نہیں لگتے،بار دار (پھل لگے)درخت،خار دار(کانٹے والے درخت)نہیں ہوتے۔بلکہ آپ (صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ )نےخودفرمایا ہے:جو بھی کلام کرے تو خیر ( یعنی اچھا)کلام کرے ورنہ خاموش رہے۔ (امیرُ المؤمنین)حضرت ابوبکر صِدِّیْق(رَضِیَ اللہُ عَنْہُ) (عاجزی کرتے ہوئے)فرماتے ہیں:کاش!میں فضول بات کہنے