Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain
شریف جاتے ہوئے ایک جنگلی جھاڑی جس میں لال رنگ کے بَیر لگے ہوتے ہیں اُس کی شاخوں میں اپنا عمامہ شریف اُلجھا کر کچھ آگے بڑھ جاتے پھر واپس ہوتے اور عمامہ شریف چھڑا کر آگے بڑھتے ۔لوگو ں نے پوچھا یہ کیا؟ اِرشاد فرمایا:رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا عمامہ شریف اِس میں اُلجھ گیا تھا اور حُضور پاک صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اِتنی دُور آگے بڑھ گئے تھے اور واپس ہو کر اپنا عمامہ شریف چھڑایا تھا۔
(نورُالایمان بزیارۃآثار حبیب الرّحمٰن ،ص۱۵ملخصاً)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو!آئیے! مزید سُنّتوں کے بارے میں کچھ سُنتے ہیں،چنانچہ
سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بلند آواز سے چھینکنے کو نا پسند فرماتے تھے۔جب چھینک آتی تو منہ مبارَک کو کپڑے یا ہاتھ مبارَک سے ڈھانپ لیتے۔([1])
رسولِ خدا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سوتے وقت اپنا سیدھا ہاتھ مبارَک گال مبارَک کے نیچے رکھتے([2]) اور یہ دُعا پڑھتے:اَللّٰهُمَّ بِاِسْمِكَ اَمُوْتُ وَاَحْيَا یعنی اے اللہ پاک میں تیرے نام کے ساتھ ہی مَرتا اور جیتا (یعنی سوتا اور جاگتا) ہوں۔ جب بیدار ہوتے تو یہ دعا پڑھتے:اَلْحَمْدُلِلَّهِ الَّذِي اَحْيَانَابَعْدَ مَا اَمَاتَنَا وَاِلَيْهِ النُّشُوْر یعنی شکر ہے اللہ پاک کا جس نے ہمیں مَر جانے کے بعد زندہ کیا اور اُسی کی طرف اُٹھنا ہے۔([3])