Book Name:Pyare Aaqa Ki Pyari Adaain
سےگونگا ہوتا۔(مرآۃ المناجیح ،۸/۸۱ بتغیر قلیل)
پیارےاسلامی بھائیو!آپ نے سُنا کہ پیارےآقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ خاموشی کو کس قدر پسند فرماتے تھے کہ بِلا ضرورت کوئی کلام نہ فرماتے۔اگر اپنی مبارَک زبان کو حَرَکت دیتے تو اللہ پاک کے ذِکْر کے لئے،اُس کےاحکامات کو بیان کرنے کےلئے،اپنی ازواجِ مطہرات رَضِیَ اللہُ عَنْہُنَّ اَجْمَعِیْن کی دل جوئی کے لئے،اپنے پیارے صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی تربیت فرمانے کےلئے،لوگوں کو نیکی کا حکم دینےاور بُرائی سےمنع کرنے کےلئے،لہٰذا ہمیں بھی چاہئےکہ فضول بولنے سے ہر دم بچتے رہیں۔آئیے!فضول گفتگو سے بچنےکےفضائل پر 2 فرامین ِ مصطفےسُنتے ہیں،چنانچہ
(1)اِرشادفرمایا:جو اللہ پاک اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے،اُسے چاہئے کہ اچھی بات کہے یا خاموش رہے۔( مسلم ، کتاب الایمان ،باب الحث علی اکرام الجار...الخ،ص ۴۸،حدیث:۱۷۴)
(2)اِرشادفرمایا:بندہ اُس وقْت تک ایمان کی حقیقت نہیں پاسکتا،جب تک اپنی زَبان کو(فُضول باتوں سے) روکے نہ رکھے۔(معجم اوسط ،۵/۵۵ حدیث: ۶۵۶۳)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے سنا کہ کس طرح صحابہ کرام اور بزرگانِ دین رضوان اللہ علیہم اجمعین پیارے آقا صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنتوں پر عمل کیا کرتے تھے، تو اس پیارے مہینے ربیع الاول میں ہم بھی نیت کریں کہ ہم بھی سرکار صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی پیاری پیاری سنتوں کو اپنائیں گے اور اپنا ہر کام سنت کے مطابق کرنے کی کوشش کریں گے۔اللہ پاک ہمیں ہر کام سنت کے مطابق کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد